جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 499 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 499

499 الفضل کی برکت سے مکرم صوفی محمد اکرم صاحب کراچی سے لکھتے ہیں۔مورخہ ۱۸ جون ۲۰۰۷ء کا الفضل کا شمارہ بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔جس کو دیکھنے سے یہ بات بھی علم میں آئی کہ الفضل کا آغاز بھی اسی تاریخ کو ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا تھا۔کراچی میں اخبار الفضل بذریعہ ڈاک عموما ۴ تا ۵ یوم میں مل جاتا ہے۔بہر حال شکر ہے کہ مل جاتا ہے۔اہل لاہور کی خوش قسمتی ہے کہ کسی بھی ہاکر سے تازہ الفضل روزانہ مل جاتا ہے۔یہ ۱۹۷۰ء کی بات ہے جب خاکسار کی تعیناتی لاہور تھی۔محکمہ محنت کا بڑا دفتر تو ا پر مال پر نہر کے پل کے ساتھ تھا جبکہ ہمارے شعبہ کا دفتر ۴۔۵ کوٹھیاں آگے تھا۔میں نے بڑے دفتر میں اخبار دینے والے ہاکر سے کہا کہ مجھے الفضل دے جایا کرو پہلے تو اس نے کہا کہ الفضل صرف ایک اتنی دور جا کر دینا مشکل ہے کیونکہ ہمیں ایک الفضل پر صرف ایک ٹیڈی پیسہ کمیشن ملتی ہے۔ہا کر ادھیڑ عمر کا شریف انسان تھا۔میں نے کہا الفضل شروع کرو اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔اس نے وعدہ کیا اور دوسرے روز سے مجھے الفضل میرے دفتر میں آ کر دینا شروع کر دیا۔یہ واقعہ ۱۹۷۰ ء والے الیکشن سے پہلے کا ہے۔دفتر میں بھٹو صاحب کے چاہنے والے بہت تھے انہوں نے اسی ہاکر سے روز نامہ مساوات پہلے لگوائی اور پھر روزنامہ آزاد اور پھر ہفت روزہ شہاب بھی لگوالیا۔کچھ دوسرے حضرات نے روزنامہ نوائے وقت۔ندائے ملت اور مشرق اخبار لگوا لیا۔تھوڑے دنوں بعد دفتر کا سرکاری اخبار پاکستان ٹائمنر بھی شروع ہو گیا۔یہ تمام اخبارات دفتر شروع ہونے سے پہلے آ جاتے اور سب سے پہلے ہمارے دفتر کے ہیڈ جو کہ جناب ایس۔اے نقوی صاحب (M۔B۔E) ( بی خان کے کزن ) کے پاس جاتے اور تمام دفتر میں گھوم گھما کر ا ابجے ہمارے پاس پہنچتے اور الفضل پر بھی نقوی صاحب کے دستخط ہوتے یعنی وہ بھی اس کو دیکھتے ضرور تھے۔میں نے پھر ایک دن ہاکر سے بات کی۔بتاؤ کہ اب کیا حال ہے۔بہت خوش تھا۔مجھے کبھی الفضل کا بل نہ پوچھتا اور میں جب بھی پیسے دیتا کہتا رہنے دیں۔یہ سب کچھ الفضل کی برکت سے ہی ہے۔واقعی الفضل کی برکات کئی رنگ میں ہم تک پہنچتی ہیں۔الحمد للہ