جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 436
436 ناصرات الاحمدیہ کا قیام ۱۹۲۸ء سے لجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی چھوٹی بچیوں کی بھی ایک مجلس قائم کی گئی۔جس کا نام بعد میں حضرت فضل عمر نے ”ناصرات الاحمدیہ " رکھا۔اس مجلس میں سات سے پندرہ سال کی عمر کی بچیاں بطور ممبر شامل ہوتی ہیں جو اپنے عہدیدار خود چنتی ہیں اور لجنہ اماءاللہ کی زیر نگرانی اپنے الگ الگ اجتماعات منعقد کرتی ہیں اور دوسری علمی اور دینی دلچسپیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ابتدائے عمر سے ہی بچیوں میں دینی اور علمی شوق پیدا کرنے کے لحاظ سے یہ مجلس بہت مفید کام کر رہی ہے۔شروع سے بچیوں کی تربیت اس انداز میں کی جاتی ہے کہ بڑی ہو کر جب وہ لجنہ اماءاللہ کی ممبر بنیں تو اپنے تجربہ اور تربیت کی بناء پر مجلس کی بہترین کارکن ثابت ہوں۔خلاصہ کلام یہ کہ ان ذیلی تنظیموں کے ذریعہ ہندوستان کی پسماندہ عورت ایک ادنیٰ مقام سے اٹھ کر ایک ایسے بلند مقام پر فائز ہو گئی جسے دنیا کے سامنے اسلام کی عظمت کے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور بعض اور امور میں وہ دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اور آزاد ممالک کی عورتوں کے لئے بھی ایک مثال بن گئی۔حضرت بانی لجنہ اماءاللہ کی خلافت کے آخری ایام میں ایک موقعہ پر جب ربوہ کی مردم شماری کی گئی تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ اگر چہ مردوں میں سے ایک معمولی تعداد نا خواندگان کی بھی پائی گئی۔لیکن عورتیں خدا کے فضل سے سو فیصدی خواندہ نکلیں۔کئی لڑکیوں نے مولوی فاضل کے امتحان بھی پاس کئے جن میں سے ایک لڑکی مولوی فاضل کے امتحان میں پنجاب بھر میں اول رہی۔الغرض ان کاموں میں تو وہ اس قدر جوش اور شوق دکھاتی ہیں کہ مردوں کو رشک آنے لگتا ہے۔اور مالی قربانی میں بھی ان کا قدم ہمیشہ پیش پیش رہا۔بہت سارے خدا کے گھر اور بعض دیگر سلسلہ کی عمارات صرف مستورات کے چندوں سے تعمیر کی گئیں۔کئی مواقع پر بہت ساری ممبرات لجنہ نے اپنے زیورات تک اتار کر پیش کر دیئے۔اب تو خدا کے فضل سے جماعت کی تعداد اور وقار پہلے سے بہت بڑھ چکے ہیں۔جب ابھی ابتدائی دور تھا اور جماعت ہر لحاظ سے نسبتا کمزور غیر معروف تھی اس وقت بھی جماعتی تنظیموں کا بنظر غور جائزہ لینے والوں نے اس تنظیم میں عظمت کے ایسے آثار دیکھے تھے جن کا نوٹس لئے بغیر نہ رہ سکے۔تحریک سیرت کے مشہور لیڈر مولانا عبدالمجید قریشی نے اپنے اخبار "تنظیم ، میں لکھا:۔لجنہ اماءاللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجلس قائم کی گئی ہے۔اور اس طرح پر ہر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے۔خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے۔اس انجمن نے تمام خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے۔