جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 435 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 435

435 جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیمیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی کی روحانی بصیرت اور خدا داد فکر و فراست نے یہ ضروری سمجھا کہ اصل مقصود کو پانے کے لئے پہلے افراد جماعت کو اندرونی طور پر منظم کرناضروری ہے۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر آپ نے مسند خلافت پر فائز ہوتے ہی افراد جماعت کی تنظیمی لحاظ سے تربیت کرنی شروع کر دی۔اور سب سے پہلے عورتوں کی تعلیم و تربیت اور تنظیم کی طرف توجہ دی۔کیونکہ عورتیں کسی بھی قوم کا اہم جز و شمار ہوتی ہیں۔بلکہ بعض لحاظ سے ان کا کام مردوں سے بھی زیادہ ذمہ داری کا رنگ رکھتا ہے۔کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ اٹھانے والے نو نہال انہیں کی گودوں میں پرورش پاتے ہیں۔پس آپ کی دور بین نگاہ نے جماعت کی ترقی کے لئے ضروری سمجھا کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کی جائے۔تا کہ وہ جماعت کے نظام کا ایک کارآمد حصہ بن سکیں۔چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے عورتوں کی تربیت شروع کر دی۔ان میں اسلام اور احمدیت کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کیا۔اور ان کی تعلیم کی طرف توجہ دی۔اور مستورات میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ مردوں سے قربانی میں کسی طرح بھی کم نہیں۔لے :۔اور آپ نے فرمایا کہ: ”اگر تم ۵۰ فی صد عورتوں کی اصلاح کرلو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔“ (بحوالہ لجنہ کیلئے دینی و تربیتی پروگرام ص۱) لجنہ اماءاللہ کا قیام حضرت مصلح موعود نے ۲۵ دسمبر۱۹۲۷ء کو با قاعدہ طورپر لجنہ اماءاللہ ی تنظیم کی بنیاد رکھی۔احمدی عورتوں نے آپ کی قیادت میں ترقی کی جو منازل طے کیں اس کی تفصیل بڑی دلچسپ اور احباب جماعت کے لئے بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔عورتوں کے خصوصی تعلیمی اداروں کا قیام۔جامعہ نصرت کے ذریعہ کالج کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام جس میں دینی تربیت کا پہلو بہت نمایاں تھا۔پھر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے ذریعہ مختلف دست کاریوں کی تربیت عورتوں کی علیحدہ علیحدہ کھیلوں کا انتظام ان میں مباحثوں اور تقاریر کا ذوق و شوق پیدا کرنا۔مضمون نگاری کی طرف انہیں توجہ دلانا ان کے لئے علیحدہ اخباروں اور رسالوں کا اجراء اور جلسہ سالانہ میں عورتوں کے علیحدہ اجلا سات میں خواتین مقررین کا عورتوں کو خود خطاب کرنا۔ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں اس رنگ میں مہیا کرنا کہ غریب سے غریب احمدی بچی بھی کم از کم بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے۔