جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 429 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 429

429 اس تحریک میں حضور نے اپنی طرف سے دو ہزار پاؤنڈ دینے کا اعلان فرمایا نیز بتایا کہ انگلستان کی جماعت کے ایک دوست پہل کر گئے ہیں کہ باقی تو اس کی بابت مشورے دیتے رہے لیکن انہوں نے ایک ہزار پاؤنڈ کا چیک بھجوا دیا۔۹ جون ۱۹۷۶ء کو خطبہ عید الفطر میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے فرمایا کہ سیدنا بلال فنڈ کی تحریک میں نے کی تھی۔جماعت نے والہانہ لبیک کہا۔کئی اسیران کو اس فنڈ سے امداد دی گئی مگر انہوں نے اسے واپس بلال فنڈ میں دے دیا اس لئے مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح جماعت کی محبت کا تحفہ ان کو پہنچاؤں۔پھر فرمایا:۔قرآن کریم کی اشاعت کے اس پروگرام کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرا دل کھول دیا اور ایک بہت ہی پیارا خیال میرے دل میں پیدا ہوا کہ سیدنا بلال فنڈ سے ایک سوز بانوں میں ساری دنیا کو قرآن کریم کا یہ تحفہ پیش کیا جائے اور یہ سارے اسیر اور یہ سارے راہ مولیٰ میں تکلیف اٹھانے والے لازماً اس میں شامل ہو جائیں گے ان کی طرف سے دنیا کو یہ تحفہ ہو گا اس سے بہتر جواب ان کے اوپر مظالم کا اور الہی جماعتیں دے ہی نہیں ( خطبات طاہر عیدین ص ۶۰ ) سکتیں۔66 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ فرمودا جون ۲۰۱۰ء میں فرماتے ہیں۔ایک ضروری امر کی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں۔مجھ سے بعض جماعتوں کی طرف سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ شہداء فنڈ میں لوگ کچھ دینا چاہتے ہیں تو یہ رقم کس مد میں دینی ہے؟ اسی طرح بعض دوست مشورے بھی بھجوا ر ہے ہیں کہ شہداء کے لئے کوئی فنڈ قائم ہونا چاہئے۔یہ ان کی لاعلمی ہے۔شہداء کے لئے فنڈ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت رابعہ سے قائم ہے جو سیدنا بلال فنڈ“ کے نام سے ہے اور میں بھی اپنے اس دور میں ایک عید کے موقع پر اور خطبوں میں دو دفعہ بڑی واضح طور پر اس کی تحریک کر چکا ہوں۔اس فنڈ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے شہداء کی فیملیوں کا خیال رکھا جاتا ہے، جن جن کو ضرورت ہو ان کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اگر اس فنڈ میں کوئی گنجائش نہ بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ان کا حق ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ ان کا خیال رکھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہم ان کا خیال رکھتے رہیں گے۔تو بہر حال ”سیدنا بلال فنڈ“ قائم ہے جو لوگ شہداء کی فیملیوں کے لئے کچھ دینا چاہتے ہوں اس میں دے سکتے ہیں۔“ 66 ( روزنامه الفضل ۲۰ جولائی ۲۰۱۰ء)