جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 428
428 نیز یتیم بچوں کی شادی کے موقع پر امداد بطور شادی دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ علاج معالجہ، مکان کی تعمیر ومرمت، اور بے روز گاریتامی کے کاروبار کے سلسلہ میں بھی معاونت کی جاتی ہے۔یتیم بچوں کی تعلیم کے مکمل اخراجات ادا کئے جاتے ہیں۔اور بعض گھرانوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہنگامی اخراجات بھی کمیٹی کی طرف سے ادا کئے جاتے ہیں کفالت یتامیٰ کے لئے کسی دفتر کی طرف سے کوئی مخصوص فنڈ نہیں ہے۔اس کی آمد کا ذریعہ صرف اور صرف تحائف کی وہ رقم ہے جو صاحب ثروت احباب الفضل میں اعلان پڑھ کر بھجواتے ہیں۔ایک یتیم بچے یا بچی کے تعلیمی اور دیگر اخراجات کا اندازہ خرچ۔۱۰۰۰ روپے سے۔۵۰۰۰ روپے ماہانہ ہے۔بچوں کی کفالت کا ذمہ لینے والے احباب ایک یا ایک سے زائد بچوں کے اخراجات کا وعدہ کرتے ہیں۔جس کی ادائیگی یکمشت یا ماہ بماہ کرتے رہتے ہیں اور ان کی ادا کی ہوئی رقم با قاعدہ ان کے نام ان کے کھانہ میں درج ہوتی رہتی ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے احباب وقتا فوقتا ایک خاص رقم اس مد میں بھجواتے رہتے ہیں ابتداء میں ایک سو یتامی کی پرورش کے لئے کمیٹی کفالت یکصد یتامی کا قیام عمل میں آیا تھا۔لیکن اب ۴۰۰ گھرانوں کے ۲۵۰۰ سے زائد یتیم بچے کمیٹی کفالت یکصد یتامی کے زیر کفالت ہیں۔جن کے ماہانہ اخراجات تقریباً ۲۵لاکھ روپے ہیں۔سیدنا بلال فنڈ تحریک الہی جاعتوں کے ساتھ ابتلاء کا تعلق ایک لازمی تعلق ہے اور زندہ جماعتیں ابتلاؤں کے وقت گھبرایا نہیں کرتیں اور نہ ہی ابتلاء کے ایام میں اپنے زخمیوں ، اسیروں اور جان کا نذرانہ دینے والوں سے منہ موڑا کرتی ہیں۔اس عظیم الشان حقیقت کے پس منظر میں سید نابلال فنڈ کی تحریک کا آغاز ہوا۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے فرمایا:۔الہی جماعتوں کی زندگی کی ضمانت اس بات میں ہے کہ ان کی قربانی کرنے والوں کو اپنے پسماندگان کے متعلق کوئی فکر نہ رہے اور یہ حقیقت اتنی واضح اور کھلی کھلی ہے کہ ہر ایک کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہم بطور جماعت کے زندہ ہیں اور بطور جماعت کے ہمارے سب دکھ اجتماعی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کسی جماعت میں یہ یقین پیدا ہو جائے تو اس کی قربانی کا معیار عام دنیا کی جماعتوں سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔“ آپ نے سیدنا بلال فنڈ میں حصہ لینے والوں کے لئے فرمایا:۔”جو شخص اس میں حصہ لے گا وہ اس بات کو اعزاز سمجھے گا کہ مجھے جتنی خدمت کرنی چاہئے تھی اتنی نہیں 66 کی۔۔۔اس لحاظ سے سب باتیں سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے اور آج اس تحریک کا اعلان کرتا ہوں۔“ (خطبه جمعه ۴ ۱ مارچ ۱۹۸۶ء)