جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 427
427 گھر تعمیر کیا گیا ہے۔ہر مکان خدا کے فضل سے کم و بیش ڈیڑھ لاکھ کی مالیت سے تعمیر ہوا ہے۔علاوہ ازیں 20 مستحقین کو ایک کروڑ چورانوے لاکھ بیاسی ہزار دوصد چونسٹھ (۱,۹۴۸۲۲۶۴) روپے کی جزوی امداد اس کے علاوہ ہے۔نیز والدین کی شفقت سے محروم بچوں کیلئے ”دار الاکرام کے نام سے ایک وسیع وعریض ہوٹل کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیوت الحمد تحریک کے متعلق تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔کئی احمدی جب اللہ کے فضل سے اپنے گھر بناتے ہیں تو اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں۔بعض نے اپنا بڑا قیمتی گھر بنایا تو بوت الحمد کے ایک مکمل گھر کا خرچ بھی ادا کیا۔تو اگر تمام دنیا کے احمدیوں کے مکان خرید نے یا بنانے پر کچھ نہ کچھ اس مد میں دینے کی طرف توجہ پیدا ہو جائے تو کئی ضرورت مند غریب بھائیوں کا بھلا ہو سکتا ہے۔“ ( خلفاء احمدیت کی تحریک اور ان کے شیریں ثمرات ص ۵۶۱) کفالت یتامی تحریک خدا کے فضل سے جماعت کا با قاعدہ قیام ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کوعمل میں آیا اور ۱۹۸۹ء میں جماعت کو قائم ہوئے ایک سو سال ہوئے۔خوشی کے اس بابرکت موقع پر جماعت کی ترقیات کے شکرانے کے طور پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیگر تحریکات کی طرح یتامی کی پرورش اور خبر گیری کے لئے جماعت کے سامنے تحریک کفالت یکصد یتامیٰ بھی پیش کی۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابتدائی طور پر جماعت ایک سو یتیم بچوں کی پرورش اور کفالت کا انتظام کرے گی ابتدائی مراحل کا کام مکمل ہونے کے بعد حضور رحمہ اللہ کی منظوری سے ۱۹۹۱ء میں کمیٹی کفالت یکصد یتامیٰ کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ایسے بچے جن کے باپ فوت ہو جائیں۔لڑ کے نابالغ اور بے روزگار ہوں یا بالغ ہوں اور طالب علم ہوں لڑکیاں غیر شادی شدہ ہوں۔اور ان سب کے گزر اوقات کے لئے ذرائع آمد نہ ہوں۔ایسے تمام مستحق افراد کی اطلاع جماعتی نظام کے تحت دی جاتی ہے۔یا وہ خود رابطہ کرتے ہیں۔یا دفتر خود اپنے ذرائع سے مستحق گھرانوں کے بارہ میں معلومات حاصل کرتا رہتا ہے معلوم ہونے پر دفتر کی طرف سے ایک کوائف فارم بھجوایا جاتا ہے۔پھر یتامی کمیٹی کی طرف سے مستحق فیملی کے حالات کے مطابق ان کے گزراوقات کے لئے ایک رقم مختص کر دی جاتی ہے۔جو ہر ماہ فیملی کو بذریعہ منی آرڈر بھجوائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ عیدین کے موقع پر تحفہ بطور عیدی بھجوایا جاتا ہے۔