جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 425
425 ایجوکیشن کمشنر جناب الحاج ابراہیم نے ادا فرمائے۔آپ نے جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا:۔جماعت احمد یہ وہ پہلی مسلم تنظیم ہے جس نے اعلی تعلیم کے ادارے قائم کرنے میں ہمارے لئے نہایت شاندار مثال قائم کر دکھائی ہے۔“ ( بحوالہ الفضل ۲۱ جولائی ۱۹۷۱ ء ص۱) صدر جمہوریہ سیرالیون ڈاکٹر سائیکا پی سٹیونس نے ۲ دسمبر ۱۹۷۱ء کو احمد یہ سیکنڈری سکول کا معائنہ کرتے ہوئے فرمایا:۔میں سب سے پہلے جماعت احمدیہ کا جو یہ کام تعلیم کے میدان میں کر رہی ہے شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اس جماعت نے تعلیم کے ساتھ ساتھ طبی میدان میں بھی ہماری مدد کرنی شروع کی ہے۔میں ان تمام گرانقدر خدمات کے لئے جماعت احمدیہ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔“ ( بحواله الفصل ۳ مارچ ۱۹۷۲ء ص۳) گیمبیا کے صحت و تعلیم اور سماجی بہبود کے وزیر آنریبل الحاج گار با جا ہم پا نے ماریشس کے دورے کے دوران جماعت احمدیہ کے استقبالیہ میں شرکت کی اور فرمایا:۔”میرے ملک (یعنی گیمبیا) میں جماعت احمدیہ کا قیام اور اس کی ترقی کی تاریخ دنیا میں ہر مسلمان کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا باعث ہے۔میں اس امر کا اظہار کرنے میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح (الثالث) کی گیمبیا میں تشریف آوری کا ہی ایک ثمرہ ہے کہ ہم خدمت خلق کے میدان میں جماعت احمدیہ کی عظیم رفاہی سرگرمیوں سے متمتع ہورہے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو یہی حقیقی اسلام ہے۔“ ( بحواله الفضل ۳ مئی ۱۹۷۲ء ص ۲) نائیجیریا کے صدر شیخو شگاری صاحب نے دسمبر ۱۹۷۴ء میں اپنے ایک پیغام میں فرمایا:۔میں نے بنظر غائر دیکھا ہے اور یہ امر میرے لئے باعث سکون ہے کہ جماعت احمدیہ تبلیغ اسلام، سکولوں اور شفاخانوں کے قیام کے میدان میں بدستور بڑے ثبات کے ساتھ ترقی پذیر ہے۔اس جہت میں جماعت کی مساعی انتہائی قابل تعریف ہے اور دوسری تمام رضا کارانہ طور پر کام کرنے والی تنظیموں کے لئے باعث تقلید ہیں۔میری انتظامیہ ایسے تمام نائیجیرین لوگوں کی جو اچھا صح نظر رکھتے ہیں۔اور با ہمی کوششوں سے نئے سکول ہسپتال اور دیگر رفاعی خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں ان کی پورے طور پر حمایت کرتی ہے۔“ (الفضل ۳ مارچ ۱۹۸۰ء ص ۴) لائبیریا ( مغربی افریقہ ) کے قصبہ سانولے میں نصرت جہاں کے تحت احمد یہ کالج کے متعلق محکمہ تعلیم کے علاقائی نگران مسٹر ونر نے ۵ جون ۱۹۷۴ء کو معائنہ کے بعد ریمارکس دیئے:۔