جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 422
422 کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“ تریاق القلوب ص ۱۴۸۔۱۴۹ ایڈیشن ۱۹۲۲ء) اسی نسبت سے تفاؤل کے طور پر حضور نے اس تحریک کا نام نصرت جہاں رکھا۔حضور نے فرمایا کہ ہم انشاء اللہ اس فنڈ کے ذریعہ ایسے طبی مراکز اور تعلیمی ادارے قائم کریں گے جو حقیقی غمخواری اور بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوں گے۔اسی غرض سے حضور نے اس تحریک کا نام ” نصرت جہاں رکھا۔جس سے بہتر کوئی نام نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اس کا مقصد ہی نصرت جہاں ہے۔حضور نے پہلی دفعہ ایک لاکھ پونڈ کی تحریک فرمائی۔جبکہ جماعت نے خدا کے فضل سے لاکھ پونڈ پیش کر دیئے۔خدا تعالیٰ نے حضور کو پہلے ہی سے یہ خبر دی تھی کہ وہ اپنی تائید سے نوازے گا۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ:۔”انگلستان میں میں نے دوستوں سے کہا تھا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔کیونکہ خدا نے شروع خلافت میں مجھے بتا دیا تھا کہ میں تینوں ایناں دیاں گا کہ تو رج جاویں گا۔( الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۷۰ء ص ۱۱) پھر فرمایا کہ:۔مجھے یہ فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا کیونکہ خدا نے شروع میں بتادیا۔مجھے یہ فکر ہے اور تمہیں بھی ہونی چاہئے۔اس لئے دعائیں کرو اور کرتے رہو کہ اے خدا ہم تیرے عاجز بندے تیرے حضور یہ حقیر قربانیاں پیش کر رہے ہیں تو اپنے فضل اور رحم سے ان قربانیوں کو قبول فرما۔اور تو ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل فرما۔سعی مشکور ہو۔ہماری وہ سعی نہ ہو جو ہمارے منہ پر مار دی جائے۔اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہم اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔اس کا احسان ہے کہ وہ ہماری طرف سے قبول کر لیتا ہے۔“ (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۷۰ ء ص ۸) خدا تعالیٰ کے فضل سے نصرت جہاں کے پروگرام میں غیر معمولی کامیابی کے سامان پیدا فرمائے۔مالی قربانی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ز اور ٹیچر ز صاحبان نے اپنے اپنے اوقات کو محض اللہ پیش کیا اور پیش کر رہے ہیں۔اس با برکت تحریک کے اعلان کے چھ ماہ بعد پہلا شیر میں ثمر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔اور ستمبر ۱۹۷۰ء کو غانا میں نصرت جہاں اکیڈمی کا قیام عمل میں آ گیا۔پھر یکم نومبر ۱۹۷۰ء کو غانا میں کو کونو کے مقام پر پہلا ہسپتال قائم ہو گیا الحمد للہ علی ذالک۔گویا پہلے سکول اور پہلے ہسپتال کا اعزاز اہل غانا کے حصہ میں آیا۔