جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 421
421 اتفاق سے اس دن عید کا دوسرا دن تھا۔جس کی وجہ سے میرے بھائی بھی عید کی وجہ سے گھر پر آئے ہوئے تھے۔جب انہوں نے چھت گرنے کی آواز سنی تو وہ فوراًہماری مدد کو آئے اور دروازہ توڑ کر ہمارے کمرے میں داخل ہوئے اور ہم چاروں کو ملبے کے نیچے سے نکالا۔میری بیٹی شاہدہ نصرت جو کہ اس وقت ساڑھے چار سال کی تھی اس کو کافی زخم آئے۔اس کو فوری طور پر فضل عمر ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پھر تھوڑی دیر بعد ہی وہ اپنے مولا حقیقی سے جامی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مجھے اور میری بیوی کو بھی کچھ زخم آئے جو کہ بہت معمولی سے تھے۔شاہد احمد واقف نو جو کہ اس وقت صرف دس ماہ کا تھا اس کو چند خراشیں آئیں۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معجزانہ طور پر ہم تینوں کو محفوظ ( محمد طاہر دار العلوم غربی مکان نمبر ۲ رار بوہ۔بحوالہ ریکارڈ دفتر وقف نوتحریک ) رکھا۔الحمد للہ نصرت جہاں تحریک یہ تحریک ایک الہی تحریک تھی۔جو حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو ۱۹۷۰ء کو دورہ مغربی افریقہ کے دوران القاء ہوئی۔اور ۲۴ مئی ۱۹۷۰ء کو بیت الفضل لندن میں حضور نے باقاعدہ طور پر اس تحریک پر اعلان فرمایا۔اس موقع پر حضور نے فرمایا کہ:۔گیمبیا میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے بڑی شدت سے میری دل میں یہ ڈالا کہ یہ وقت ہے کہ تم کم سے کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں خرچ کرو۔اور اس میں اللہ تعالیٰ بہت برکت ڈالے گا اور بہت بڑے اور اچھے نتائج (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۷۰ ص ۷ ) نکلیں گے۔“ اس با برکت تحریک کے نام اور پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بشارت دی کہ حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کے ذریعہ ایک بڑی بنیاد حمایت دین کی ڈالے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا پھیلا دے گا۔میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل