جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 420 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 420

420 دلی تمنا یہ بھی تھی خدا تعالیٰ ہمیں اب بیٹی کی نعمت سے نوازے چنانچہ دوسرے بیٹے کی ولادت کے دس سال بعد اللہ تعالیٰ نے ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء کو بروز جمعتہ المبارک ہمیں بیٹی عطا فرمائی۔یہ بچی بغیر آپریشن نارمل صورت میں پیدا ہوئی اور پہلے بچوں کی پیدائش کے موقع کی نسبت اس دفعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں سے بھی محفوظ رکھا۔یہ سب سراسر اس الہی تحر یک وقف نو کی برکات کا ہی نتیجہ تھا۔“ (د) محمد قاسم صاحب ساکن نصرت آباد فارم ڈاکخانہ فضل شمبھر ضلع میر پور خاص سندھ لکھتے ہیں :۔میرا بیٹا عزیزم طارق محمود سلمہ اللہ اور اس کی اہلیہ نے اپنے ہاں پہلے متوقع ہونے والے بچے کو وقف نو میں حضور ایدہ اللہ کی خدمت میں پیش کرنے کی نیت کی ہوئی تھی۔جب یہ بچہ پیدا ہوا از راہ شفقت حضور نے بچے کا نام ساجد محمود تجویز فرمایا۔اور حوالہ نمبر ۴۳۳۲-A کے تحت بچے کا وقف منظور فر مایا۔الحمد للہ ابھی بچہ سات آٹھ ماہ کی عمر کا تھا کہ اچانک بخار کی حالت میں اس کی ٹانگیں ٹیڑھی اور مافوج ہو گئیں۔عام خیال پولیو کا ہی تھا۔جب صبح اچانک یہ واقعہ نمودار ہوا۔میرا بیٹا طارق محمود کے دل کو شدید صدمہ پہنچا۔اس کا یہ پہلا پہلا بچہ تھا۔اس کا اپانچ ہوناوہ برداشت نہ کر سکا۔وہ الگ تھلگ گھر کے ایک کونہ میں فرش پر بیٹھا صدمہ سے پورزا روز ار رورہا تھا۔حالت تو میری بہت غیر تھی۔مگر گھر میں سر براہ ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے جذبات پر مکمل کنٹرول رکھنا پڑا۔اور سب کو صبر اور دعا کی تلقین کرتارہا۔اس موقع پر طارق محمد کو تسلی دیتے ہوئے غیر ارادی طور پر میری زبان سے جو کلمات نکل گئے وہ یہ تھے:۔بیٹا طارق تو کیوں فکر مند ہے۔تو نے تو یہ بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیا ہے۔اب یہ تیرا نہیں رہا۔بلکہ خدا کا ہو گیا پس خدا اسے ناکارہ نہیں رہنے دے گا وہ ضرور اس کی حفاظت فرمائے گا۔اور اسے تندرستی عطا کرے گا۔تمہیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔“ حضور کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی بدولت مسلسل سال بھر ماہر ڈاکٹروں کی توجہ اور علاج معالجہ سے بچہ اب تندرست ہو چکا ہے۔اور اس کی ٹانگیں خدا کے فضل سے اب بالکل نارمل حالت میں ہے۔الحمد للہ میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بچہ پر جواللہ تعالیٰ کا فضل و احسان نازل ہوا ہے وہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کی وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ بچہ خدا کے دین کے لئے وقف تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آئندہ بھی اسے اور ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور خدمت دین کی توفیق عطا فرما تار ہے۔آمین (ھ) یہ واقعہ ۲۷ اپریل ۱۹۹۰ء کی درمیانی رات کو تقریباً ۲ بچے پیش آیا۔ہوا یوں کہ ہم چاروں یعنی میں میری بیوی فوزیہ طاہر میری بیٹی شاہدہ نصرت اور بیٹا شاہد احمد واقف نو اپنے کمرے میں سورہے تھے کہ اچانک چھت ہمارے اوپر آ گری۔اور ہم چاروں ملبے کے نیچے دب گئے۔