جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 401
401 اب میں تحریک جدید اور وقف جدید کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔تحریک جدید کو قائم ہوئے ۳۵ سال ہو چکے ہیں۔لیکن وقف جدید کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہوا ہے۔وقف جدید میں شامل ہونے والوں کی درخواستیں برابر چلی آ رہی ہیں۔مگر ابھی یہ تعداد بہت کم ہے۔وقف جدید میں شامل ہونے والے لوگ کم از کم ایک ہزار ہونے چاہئیں۔اگر دس ہزار ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔اگر ہماری جماعت کے زمیندار اپنی آمد میں بڑھا ئیں تو وقف جدید کے چندے بھی بڑھ جائیں گے۔اور وہ مزید آدمی رکھ سکیں گے۔“ ( الفضل ۳ را پریل ۱۹۵۹ء) دعوت الی اللہ وقف جدید کے مقاصد عالیہ میں دوسرا بڑا مقصد دعوت الی اللہ کا تھا۔یہ مقصد بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ساتھ ساتھ پورا ہورہا ہے۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔وو مجھے بتایا گیا ہے کہ وقف جدید کے ماتحت اب اچھوت اقوام تک بھی دین حق کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کر دیا گیا اور اس کے امید افزاء نتائج پیدا ہورہے ہیں۔“ الفضل ۵ جنوری ۱۹۶۲ء) حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے احباب جماعت کے نام ایک پیغام میں وقف جدید کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔’وقف جدید ابھی ۸ سالہ بچہ ہی ہے مگر اس قلیل عرصہ میں بھی بہت بابرکت تحریک ثابت ہوئی ہے۔وقف جدید کے ماتحت جہاں بھی کام شروع کیا گیا ہے بہت مفید نتائج نکلے ہیں۔“ (الفضل ۶ جنوری ۱۹۶۶ء) حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۵ء کے موقع پر کارکنان وقف جدید کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔”وقف جدید کے کارکن بہت اچھا کام کر رہے ہیں اشاعت دین حق کے لئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے جذبہ۔وقف جدید والوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اشاعت دین حق کے لئے اتنی علم کی ضرورت نہیں جتنا یہ امر ضروری ہے کہ انسان میں جذ بہ موجود ہو۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس بارہ میں بعض ( مربیان) سے بھی بڑھ گئے ہیں۔“ (الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۶۶ء )