جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 305
305 ے۔جناب زاہد ملک: یورپ کے ایک ملک سے قادیانیوں نے STN کی طرز پر ایک TV اسٹیشن کرائے پر لے رکھا ہے۔جس پر ۲۴ گھنٹے اسلام کے نام پر اپنے مسلک کی ترویج اور فروغ کے لئے انگریزی ، ہسپانوی، اٹالین، فرانسیسی ، جرمن، عربی اور اسپرانٹو جیسی عالمی زبانوں میں نشریات پیش کی جاتی ہیں۔ساری دنیا میں الیکٹرانک میڈیا، لٹریچر اور عقلی سائنسی دلائل کے ذریعے اسلام کے نام پر جتنا کام مرزائی اور قادیانی کر رہے ہیں اتنا ہم مسلمانوں نے سوچا بھی نہیں“۔علماء کرام سے غیر مسلموں کے دس سوال۔روز نامہ اساس ۲۴ مارچ ۱۹۹۷ء) ۸۔سہ ماہی الشعر یہ گوجرانوالہ: ”قادیانیت کی تبلیغ اب سیٹلائٹ کے ذریعہ ہر گھر کے بیڈ روم میں داخل ہوگئی ہے۔( مضمون پاکسان شریعہ کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی۔سہ ماہی الشریہ گوجرانوالہ۔اکتوبر۱۹۹۶ء جلدے شمارہ نمبر صفحه ۸۳) ۹۔حافظ عبدالوحید : اس وقت ایک مستقل TV اور ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جا چکا ہے۔جس سے ۲۴ گھنٹے قادیانیت کا تبلیغی مشن جاری رہتا ہے۔پڑھا لکھا طبقہ اسی ذریعہ سے خاص طور پر گمراہ کیا جارہا ہے“۔(اداریہ حافظ عبدالوحید ہفت روزہ الاعتصام جلد ۵۲ - شماره ۵-۱۱فروری ۲۰۰۰ء) ۱۰۔ابوبکر بلوچ۔حیدر آباد: چند روز قبل اپنے قادیانی دوست کے ساتھ ( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) ان کے امام مرزا طاہر احمد کا خطاب بذریعہ سیٹلائٹ دیکھنے کا موقع ملا۔قادیانی جماعت کا سر براہ بڑے فکر سے اعلان کرتا ہے چشم عالم نے یہ نظارہ آج سے قبل نہیں دیکھا کہ ۳۰ لاکھ افراد ایک سال میں کسی مذہب میں داخل ہوئے ہوں۔قادیانیوں کی روز افزوں ترقی لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا قادیانی مذہب میں داخل ہونا اور دنیا کا قادیانیت کی طرف بڑھتا ہوا میلان اس بات کی علامت معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی طرف کھڑا ہے۔“ ( مضمون بعنوان ۳۰ لاکھ افراد کا کفر ایک لمحہ فکریہ۔از ابوبکر بلوچ۔ماہنامہ دفاع کراچی۔جلدا شماره ۳۰ اگست ۹۷ صفحه ۴۰) ( بحوالہ فولڈر بعنوان: ایم ٹی اے کے عظیم الشان اثرات شائع کردہ منصوبہ بندی کمیٹی ) فضل عمر فاؤنڈیشن حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خلافت کا ۵۲ سالہ دور ایک سنہری دور ہے۔آپ کے دور خلافت میں جماعت کو عظیم الشان ترقی ملی۔احباب جماعت کے دلوں میں اپنے پیارے امام کی بے پناہ محبت تھی۔حضور کی