جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 262
262 باتیں کرتے رہے۔دوسرے دن جب یہ مہمان واپس روانہ ہونے لگے تو حضور نے دودھ کے دو گلاس منگوا کر ان کے سامنے بڑی محبت کے ساتھ پیش کئے اور پھر دو اڑھائی میل پیدل چل کر بٹالہ کے رستہ والی نہر تک چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ گئے اور اپنے سامنے یکہ پر سوار کرا کے واپس تشریف لائے۔“ ( اصحاب احمد جلد۴) اس عظیم خلق کے نتیجہ میں لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کی بنیاد رکھی گئی لنگر خانہ کی تاریخ کا مطالعہ غیر معمولی ایمانی تروتازگی کے سامان مہیا کرتا ہے۔اس تمام تاریخ کا نقشہ حضرت بانی سلسلہ اپنے ایک عربی شعر میں بیان کرتے ہیں۔لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِ صِرُتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاَهَالِـ ( آئینہ کمالات اسلام ) یعنی ایک زمانہ تھا کہ دوسروں کے دستر خوان سے بچے ہوئے ٹکڑے میری خوراک ہوا کرتے تھے۔مگر آج خدا کے فضل سے میرے دستر خوان پر خاندانوں کے خاندان پل رہے ہیں۔اس وقت خدا کے فضل سے دار الضیافت میں نارمل حالت میں۸۷۰ مہمانوں کو ٹھہرانے کی گنجائش ہے۔ہنگامی حالات میں ایک ہزار تک مہمانوں کے قیام کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔روزانہ اوسطاً ساڑھے بارہ صد مہمان کھانا کھاتے ہیں۔مہمانوں کے علاوہ روزانہ کافی تعداد میں غرباء کو فری کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔جماعت کے جملہ اجتماعی پروگراموں کے موقع پر قیام و طعام کے تمام انتظامات دارالضیافت کی انتظامیہ کے تحت انجام پاتے ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کے علاوہ کئی شعبے دارالضیافت کے ساتھ منسلک ہیں۔بيت الكرامه بیت الکرامہ بھی دارالضیافت کا ہی ایک حصہ ہے جس میں ایسے ضعیف و ناتواں بزرگوں کو مستقل ٹھہرایا گیا ہے جن کا کوئی بھی وسیلہ نہیں اور نہ خود اپنا گزارہ چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔پہلے بیت الکرمہ میں صرف بے سہارا مرد حضرات کو ٹھہرایا جاتا تھا۔مگر اب بے سہارا مستورات کو ٹھہرانے کے لئے ایک الگ بلڈنگ تعمیر ہو چکی ہے جس میں ایسی ضرورت مند مستورات کو ٹھہرانا شروع کر دیا گیا ہے۔