جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 261 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 261

261 کو ملنے اندرون خانہ گیا۔کمرہ نیا نیا بنا تھا اور ٹھنڈا تھا۔میں ایک چار پائی پر ذرا لیٹ گیا اور مجھے نیند آگئی۔حضور اس وقت کچھ تصنیف فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔جب میں چونک کر جا گا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود میری چارپائی کے پاس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔میں گھبرا کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود نے بڑی محبت سے پوچھا۔مولوی صاحب! آپ کیوں اٹھ بیٹھے؟ میں نے عرض کیا۔حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔میں اوپر کیسے سوسکتا ہوں؟ مسکرا کر فرمایا۔آپ بے تکلفی سے لیٹے رہیں۔میں آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے تو میں انہیں روکتا تھا۔تا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔اللہ اللہ ! شفقت کا کیا عالم تھا !!"۔(سیرة مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ص ۳۶) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی راویت کرتے ہیں :۔ایک دفعی منی پور آسام کے دور دراز علاقہ سے دو ( غیر احمدی) مہمان حضرت مسیح موعود کا نام سن کر حضور کو ملنے کے لئے قادیان آئے اور مہمان خانہ کے پاس پہنچ کر لنگر خانہ کے خادموں کو اپنا سامان اتارنے اور چارپائی بچھانے کو کہا۔لیکن ان خدام کو اس طرف فوری توجہ نہ ہوئی۔اور وہ ان مہمانوں کو یہ کہ کر دوسری طرف چلے گئے کہ آپ یکہ سے سامان اتاریں چار پائی بھی آ جائے گی۔ان تھکے ماندے مہمانوں کو یہ جواب ناگوار گزرا اور وہ رنجیدہ ہوکر اسی وقت بٹالہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔مگر جب حضور کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نہایت جلدی ہی ایسی حالت میں کہ جوتا پہنا بھی مشکل ہو گیا۔ان کے پیچھے بٹالہ کے رستہ پر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے۔چند خدام بھی ساتھ ہو گئے۔اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں بھی ساتھ ہولیا حضور اس وقت اتنی تیزی کے ساتھ ان کے پیچھے گئے کہ قادیان سے دو اڑھائی میل پر نہر کے پل کے پاس انہیں جالیا اور بڑی محبت اور معذرت کے ساتھ اصرار کیا کہ واپس چلیں اور فرمایا آپ کے واپس چلے جانے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔آپ یکہ پر سوار ہو جائیں میں آپ کے ساتھ پیدل چلوں گا۔مگر وہ احترام اور شرمندگی کی وجہ سے سوار نہ ہوئے اور حضور انہیں اپنے ساتھ لے کر قادیان واپس آگئے اور مہمان خانہ میں پہنچ کر ان کا سامان اتارنے کے لئے حضور نے اپنا ہاتھ یکہ کی طرف بڑھایا مگر خدام نے آگے بڑھ کر سامان اتار لیا۔اس کے بعد حضور ان کے پاس بیٹھ کر محبت اور دلداری کی گفتگو فرماتے رہے اور کھانے وغیرہ کے متعلق بھی پوچھا کہ آپ کیا کھانا پسند کرتے ہیں اور کسی خاص کھانے کی عادت تو نہیں؟ اور جب تک کھانا نہ آ گیا حضور ان کے پاس بیٹھے ہوئے بڑی شفقت کے ساتھ