جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 259
259 علیہ السلام کی مہمان نوازی سے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت درجہ مہمان نواز تھی۔اور جو لوگ جلسہ کے موقعہ پر یا دوسرے موقعوں پر قادیان آتے تھے خواہ احمدی ہوں یا غیر احمدی وہ آپ کی محبت اور مہمان نوازی سے پورا پورا حصہ پاتے تھے اور آپ کو ان کے آرام اور آسائش کا از حد خیال رہتا تھا۔آپ کی طبیعت میں تکلف بالکل نہیں تھا اور ہر مہمان کو ایک عزیز کے طور پر ملتے تھے اور اس کی خدمت اور مہمان نوازی میں دلی خوشی پاتے تھے۔اوائل زمانہ کے آنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مہمان آتا تو آپ ہمیشہ اسے مسکراتے ہوئے چہرہ سے ملتے۔مصافحہ کرتے۔خیریت پوچھتے۔عزت کے ساتھ بٹھاتے گرمی کا موسم ہوتا تو شربت بنا کر پیش کرتے۔سردیاں ہوتیں تو چائے وغیرہ تیار کروا کے لاتے۔رہائش کی جگہ کا انتظام کرتے اور کھانے وغیرہ کے متعلق مہمان خانہ کے منتظمین کو خود بلا کر تا کید فرماتے کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔“ ایک دوسری روایت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سیرۃ طیبہ ص ۶۹ میں یہ تحریر فرماتے ہیں :۔ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو ر ہنے والے تو چکوال کے تھے مگر راولپنڈی میں دوکان کیا کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہور ہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا تھا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گذرگئی اور قریباً بارہ بجے کا وقت ہو گیا تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود کھڑے تھے۔ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا۔کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔آپ یہ دودھ پی لیں۔آپ کو شاید دودھ کی عادت ہوگی اس لئے یہ دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسوائد آئے کہ سبحان اللہ کیا اخلاق ہیں! یہ خدا کا برگزیدہ صیح اپنے ادنیٰ خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پاتا ہے اور کتنی تکلیف اٹھاتا ہے!!“ اس واقعہ سے آپ کے جذ بہ مہمان نوازی کا کسی قدرا ندازہ ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں مہماں جو کر کے اُلفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت