جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 250
250 1 - قاضی اول۔(جن کا تقرر ناظم دارالقضاء کرتے ہیں ) 2 مرافعہ اولی۔دو قاضی صاحبان ( جن کا تقرر ناظم دارالقضاء کرتے ہیں) 3۔بورڈ مرافعہ ثانیہ تین ممبران ہوتے ہیں ایک صدر دو ممبران (جن کا تقر رصد ر قضاء بور ڈ ممبران بورڈ میں سے کرتے ہیں ) 4۔بورڈ مرافعہ عالیہ : اس کا تقرر بھی صد ر قضاء بورڈ کرتے ہیں (ایک صدر باقی ممبران) بورڈ مرافعہ عالیہ کا فیصلہ اگر اختلافی ہو تو اس کی اپیل دارالقضاء کے ذریعہ حضور کی خدمت میں صدر صاحب بورڈ قضاء پیش کرتے ہیں۔اگر فیصلہ متفقہ ہو اور کوئی فریق نظر ثانی کی درخواست دائر کرے تو بورڈ فیصلہ کنندہ کے پاس ہی پیش ہوتی ہے۔ایک بورڈ دوسرے بورڈ کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کر سکتا۔بہت سے بیرونی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے قضاء کا نظام مستحکم ہو چکا ہے۔جو خلیفہ المسیح کی زیر نگرانی اپنے فرائض بجالا رہا ہے۔تاہم قواعد کی رو سے ان کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں مرکزی دارالقضاء ربوہ میں دائر ہوتی ہیں۔بیرون ممالک میں قضاء کا جو نظام قائم ہے اس کے لئے قواعد تحریک جدید میں باقاعدہ قواعد موجود ہیں۔بیرون ممالک میں صرف دو مراحل ہیں قاضی اول اور مرافعہ اولیٰ۔اس کے بعد اپیل مرافعہ عالیہ کے لئے مرکزی دارالقضاء ربوہ میں دائر ہوتی ہے۔جبکہ مرکزی دارالقضاء میں چار مراحل ہیں قضاء اول ، مرافعہ اولیٰ ، مرافعہ ثانیہ اور مرافعہ عالیہ۔ہالی معاملات کے مقدمات درجہ بدرجہ مرافعہ عالیہ تک پہنچتے ہیں جبکہ خلع کے مقدمات کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مورخہ 17 فروری 1946ء کو ارشاد فرمایا تھا۔آئندہ ضلع کے ہر مقدمہ کی اپیل براہ راست پیش کی جایا کرے۔“ (رجسٹر نمبر 2 الف صفحہ 103) اس لئے ضلع کے مقدمات میں یہ اپیلیں بورڈ مرافعہ عالیہ میں پیش ہوتی ہیں جبکہ بورڈ مرافعہ عالیہ کے اختلافی فیصلہ کی صورت میں اپیل خلیفہ اسیح کی خدمت میں پیش ہوتی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 15 دسمبر 2010ء کو آئندہ کیلئے قضاء کے قواعد میں درج ذیل قاعدہ کا اضافہ فرمایا ہے۔قضاء میں آنے والے ہر مقدمہ کے فریقین سے آئندہ باضاطہ قانونی ثالثی نامہ لکھوایا جائے گا۔اگر وہ ثالثی نامہ نہ لکھیں تو انہیں سرکاری عدالت میں جانے دیا جائے اور آئندہ ایسے اشخاص کے کسی مقدمہ کی قضاء میں سماعت نہ کی جائے۔“