جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 249
249 معاملات کی سماعت کیا کرے لیکن یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ایسا کرنے کی وجہ سے زیادہ نہ ہوا کرے اور معاملات کا جلد فیصلہ کر دیا جایا کرے۔“ ( دستخط عبدالرحمن پرائیویٹ سیکرٹری خلیفہ المسح الثانی) حضرت خلیت اسی الثانی اللہ تعالی آپ سے راضی ہو ) کی وفات تک یہ طریق جاری رہا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے مورخہ 30 اپریل 1966 ء کو درج ذیل ارشاد فر ما یا۔" حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی آخری چندہ سالوں میں اپنی بیماری کی وجہ سے بورڈ قضاء کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی سماعت نہ فرماتے تھے اس لئے بورڈ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا تھا مگر اب بورڈ قضاء کے ہر فیصلے کی اپیل میرے پاس ہو سکے گی خواہ معیاد بیل گزر چکی ہو۔جس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔“ (رجسٹر نمبر 5 صفحہ 5) حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عہد مبارک میں کچھ قضائی فیصلہ جات فرمائے جن کی کچھ فائلیں دفتر دارالقضاء میں محفوظ ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے مورخہ 7 جولائی 1982ء کو بورڈ قضاء کے متعلق درج ذیل ہدایات فرمائیں۔1۔خلیفہ وقت کا یہ حق ہے کہ جس کیس میں چاہے بورڈ قضاء کے فیصلہ کے خلاف اپیل سن سکے سوائے اس کے کہ وہ خود پارٹی ہو۔لیکن عام دستور یہ ہوگا۔2۔اگر بورڈ قضاء تین ممبروں پر مشتمل ہو تو ان کے فیصلہ کے خلاف اپیل بورڈ قضاء ہی سن سکے گا۔لیکن اس مرتبہ اپیل سننے والے منصفین کی تعداد پانچ ہوگی۔3۔اگر بورڈ قضاء پانچ مہروں پر مشتمل ہو اور ان کا فیصلہ متفقہ ہوتو اس فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل خلیفہ وقت کو پیش نہیں کی جائے گی۔4۔اپیل سننے والے بورڈ کی تشکیل صدر بورڈ قضاء کریں گے۔5۔اگر بورڈ قضاء کے ممبران میں اختلاف پایا جاتا ہو تو اس بات کے فیصلہ سے پہلے کہ خلیفہ وقت اپیل سنے گا یا نہیں وہ فیصلہ کے دلائل اور وجہ اختلاف سے آگاہی حاصل کرے گا جس کے بعد اپیل کو سنے یا نہ سننے کا فیصلہ کرے گا۔6۔جب تک کوئی خلیفہ اس طریق کو نہ بدلے یہی طریق جاری رہے گا۔(رجسٹر نمبر 4 صفحہ 21) اس وقت مرکزی دارالقضاء میں قضاء کی تشکیل کچھ یوں ہے۔