جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 247
247 دار القضاء جماعت احمدیہ کے اندرونی تنازعات کے فیصلہ کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۱۹ ء میں صیغہ قضاء کی بنیاد ڈالی جس میں سلسلہ کے عالم باعمل اور معاملہ فہم لوگ بطور قاضی مقرر کئے گئے۔ایسے احباب جو قاضی اول کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کے خواہاں ہوں۔ایسی اپیلوں کی سماعت کے لئے دارالقضاء میں بورڈ قائم ہیں۔اور آخری اپیل حضرت خلیفہ اسیح کے پاس ہوتی ہے۔حکومتی عدالتوں میں صرف ایسے تنازعات پیش ہوتے ہیں جو یا تو محض دیوانی حقوق کا رنگ رکھتے ہوں اور یاوہ حکومت وقت کے ماتحت قابل دست اندازی پولیس نہیں سمجھے جاتے۔اس صیغہ کے قیام سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اول تو گویا گھر کا فیصلہ گھر میں ہی ہو جاتا ہے اور سرکاری عدالتوں میں روپیہ اور وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا۔دوسرے جو نا گوار اثرات اخلاقی لحاظ سے قانونی عدالتوں کی فضا میں پیدا ہو سکتے ہیں ان سے جماعت کے لوگ محفوظ ہو گئے۔تیسرے بعض اوقات مقدمات کے نتیجہ میں جو ایک صورت پارٹی بندی کی پیدا ہونے لگتی ہے اس کا خطرہ جا تا رہا۔جماعت کے دشمنوں نے اس صیغہ کے قیام پر بہت شور مچایا ہے کہ گویا جماعت احمدیہ نے ایک نئی حکومت قائم کر لی ہے اور لوگوں کے لئے سرکاری عدالتوں میں جانے کا رستہ بند کر دیا گیا ہے۔اور حکومت کو بھی طرح طرح کی رپورٹوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر سمجھدار طبقہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک بہت مفید نظام ہے جس میں ایک طرف تو حکومت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ لوگ آپس میں خود فیصلہ کر لیا کریں۔اور دوسری طرف جماعت کے اندرونی تنازعات کے تصفیہ کا ایک بہت سہل اور عمدہ اور ستا رستہ نکل آیا ہے۔جماعت کے اس نظام میں دو خصوصتیں ہیں۔اول یہ کہ صیغہ قضا کے تمام مقدمات شریعت دین حق کے مطابق تصفیہ پاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اس میں اہل مقدمہ سے کوئی فیس چارج نہیں کی جاتی بلکہ ہر مقدمہ سلسلہ کے خرچ پر مفت کیا جاتا ہے کیونکہ یہی قدیم سے دین کا طریق ہے۔( از سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۶۴، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) دار القضاء کا نظام حضرت خلیفہ مسیح الثانی لمصلح الموعود نے اپنے عہد مبارک میں جماعت کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی اور یکم جنوری 1919ء کو با قاعدہ طور پر مختلف صیغہ جات قائم فرمائے۔اس اعلان میں قضاء کے قیام کا ذکر بھی تھا مگر 17 جنوری 1919ء کے اخبار ”الحکم سے پتہ چلتا ہے کہ اس نئے نظام کے حوالے سے حضرت