جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 241
241 جماعت احمدیہ کا نظام جماعت کے نظام کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ سلسلہ احمد یہ منہاج نبوت پر قائم ہے اس لئے اصولی رنگ میں اس کا وہی نظام ہے جو ہر الہی سلسلہ کا ہوا کرتا ہے اور وہ نظام یہی ہے کہ جب خدا تعالیٰ ایک نبی کے ذریعہ کسی سلسلہ کی بنیا د رکھتا ہے تو اس کے بعد وہ جب تک مناسب اور ضروری سمجھتا ہے اس نبی کے متبعین میں سے اس کے خلفاء قائم کر کے اس سلسلہ کو ترقی دیتا ہے ان خلفاء کو جملہ اہم امور میں جماعت سے مشورہ لینے کا حکم ہوتا ہے۔مگر چونکہ ان کا اصل سہارا خدا کی نصرت پر ہوتا ہے اس لئے وہ اس مشورہ کے پابند نہیں ہوتے بلکہ جس طرح خدا ان کے دل پر ڈالتا ہے جماعت کے کام کو چلاتے ہیں۔دراصل خلفاء کو اپنے روحانی منصب کی وجہ سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ہر بات میں خدا کی طرف نظر رکھیں اور اس کی مدد پر بھروسہ کریں۔گویا ان کا مقام تو کل کا مقام ہوتا ہے۔لیکن اگر انہیں مشورہ کا پابند کر دیا جائے اور وہ دوسروں کی رائے پر چلنے کے لئے مجبور ہوں تو اس پابندی اور اس مجبوری کے ساتھ ہی تو کل کا خیال دھواں ہو کر اڑ جاتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف نے تو کل کو مشورہ کے مقابل پر رکھ کر بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مشورہ تو ضرور لو مگر آخری فیصلہ خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کرو تا کہ توکل کے مقام پر قائم رہ سکو۔بہر حال خلفاء جماعت کے مشورہ کو قبول کرنے کے پابند نہیں ہوتے مگر خود ان کا حکم جماعت کے لئے واجب التعمیل ہوتا ہے۔پس مختصر طور پر تو یہی جماعت احمدیہ کا نظام ہے اور ہمارے نظام کا مستقل حصہ صرف اسی حد تک محدود ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔لیکن جس طرح ہر سلسلہ تفصیلات میں اپنا الگ الگ رستہ قائم کر لیتا ہے۔اس طرح بعض تفصیلی امور میں جماعت احمدیہ میں بھی بعض طریق قائم ہو چکے ہیں اور انہیں شامل کر کے جماعت احمدیہ کا موجودہ نظام مندرجہ ذیل صورت میں سمجھا جا سکتا ہے۔ا۔اول خلیفہ وقت ہے جو جماعت کے نظام کا مستقل اور مرکزی نقطہ ہے اور اس قید کے ساتھ کہ وہ کوئی حکم شریعت اسلامی اور اپنے نبی متبوع کی ہدایات کے خلاف نہیں دے سکتا۔( اور ایسا ہونا ممکن ہی کہاں ہے) اسے کلی اختیارات حاصل ہیں۔۲۔دوسرے صدر انجمن احمد یہ ہے جو سلسلہ کے کاموں کو چلانے کے لئے خلیفہ وقت کے ماتحت ایک مرکزی اور انتظامی انجمن ہے جس کے ممبر مختلف صیغوں کے انچارج ہوتے ہیں اور ناظر کہلاتے ہیں مگر خلیفہ وقت کے حکم سے ایسے ممبر بھی مقرر ہو سکتے ہیں جن کے پاس کسی صیغہ کا چارج نہ ہو۔۳۔تیسرے مجلس مشاورت ہے جو صدرانجمن کے مقابل پر یعنی اس کے متوازی ایک مشیر انجمن ہے۔