جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 235 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 235

235۔سیکرٹری مجلس مشاورت کا فرض ہوتا ہے کہ نمائندگان کی تعداد کا معاملہ ہر پانچ سال کے بعد مجلس مشاورت میں پیش کیا کرے۔( قاعدہ نمبر ۳۵) ۶۔صدر انجمن احمد یہ انجمن احمد یہ تحریک جدید، انجمن احمد یہ وقف جدید اور دیگر ذیلی انجمنیں جن کا ذکر قاعدہ نمبر ۳۲ میں ہے ان کے محکمانہ نمائندوں کی فہرستیں اپنے اپنے صدرصاحبان کی منظوری اور وساطت سے پرائیویٹ سیکرٹری کو بھیجی جایا کرتی ہیں۔صدر صاحبان اپنی اپنی مجالس کے مشورہ سے فہرست خلیفہ امسیح کی منظوری کے لئے بھجواتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۳۷) مجلس مشاورت کا کام ان امور میں مشورہ دیتا ہے جن میں خلیفہ اسے اس سے مشورہ طلب فرما ئیں۔اس کا کوئی مشورہ جب تک کہ خلیفہ مسیح اسے منظور کر کے جاری نہ فرمائیں واجب التعمیل نہیں ہوتا۔( قاعدہ نمبر ۳۸)۔مجلس مشاورت کے نمائندگان کے انتخاب کے وقت حسب ذیل امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۳۹) الف : مخلص مبائع احمدی اور صائب الرائے ہواور سلسلہ کی طرف سے زیرتعزیر نہ ہو۔ب:۔باقاعدہ چندہ دیتا ہو۔باقاعدہ چندہ دینے سے مراد ہے کہ چندہ عام اور چندہ حصہ آمد کا چھ ماہ اور چندہ جلسہ سالانہ کا ایک سال سے زائد کا بقایا دار نہ ہو۔د:۔ضروری ہوتا ہے کہ ضلع کے نمائندگان مشاورت کا ایک چوتھائی حصہ ۳۰ سال سے کم عمر نمائندگان پر مشتمل ہو۔۹ نمائندگان مجلس مشاورت کی نمائندگی مجلس مشاورت کے اگلے سالانہ اجلاس تک قائم رہتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۴۰) ۱۰ مجلس مشاورت کے لئے کسی مقامی جماعت یا ذیلی تنظیم کی طرف سے کوئی ایسا شخص نمائندہ نہیں ہوسکتا جے خلیفہ ایسے کی منظوری حاصل نہ ہویا صدر جم احمد یہ یا انجمن حمدیہ تحریک جدید یا انجمن احمد یہ وقف جدید یا کسی اور مرکزی انجمن جو بعد میں کارکن بنی ہو۔البتہ خلیفہ مسیح کی اجازت سے ایسا ہوسکتا ہے۔نیز انجمنوں کے کسی ایسے کارکن کو جو مجلس مشاورت کا نمائندہ مقرر ہو ان جملہ انجمنوں کے کام پر جرح کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔( قاعدہ نمبر ۴۱) ۱۱۔جو نمائندہ بغیر کسی معقول وجہ یا مجبوری کے مجلس مشاورت کے اجلاس اور سب کمیٹی میں شریک نہ ہو اس کا نام مجلس مشاورت میں پیش ہوتا ہے اور اگر پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہے تو ایسے شخص کو تین سال تک مجلس مشاورت