جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 221
221 کارروائی کرنا اس نظارت کے سپر د ہوتا ہے۔متعلقہ کھانہ جات مکمل رکھنا اور متعلقہ صیغہ جات کو اطلاع دینا بھی اس نظارت کا فرض ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶) ۳۔صدر انجمن احمدیہ کے مختلف صیغہ جات کے اخراجات پر فی الجملہ نظر رکھنا اور اس بات کو دیکھتے رہنا کہ خرچ آمد سے تجاوز نہ کرے اور اگر کرے تو اس کے بالمقابل آمد کی صورت تجویز کرنا اور اس بارے میں بوقت ضرورت صدرانجمن احمد یہ میں رپورٹ کرنا بھی اس نظارت کا فرض ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۲) ۴۔ناظر بیت المال ( خرچ) کو اختیار ہوتا ہے کہ جملہ صیغہ جات صدر انجمن احمدیہ کے حساب کتاب کا جس وقت چاہے معائنہ کرے اور ضروری معلومات حاصل کرے اور حسب ضرورت افسران صیغہ جات کو توجہ دلائے اور صدرانجمن احمدیہ کے علم میں لائے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۳) ۵۔جماعتوں کو مقامی اور ضلعی اور صوبائی گرانٹ دینے سے متعلق ضروری امور سرانجام دینا اس نظارت کے ذمہ ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۴) ۶۔نظارت بیت المال ( خرچ) کے ذمہان دیگر فرائض کی بجا آور بھی ہوتی ہے جو خلیفۃ المسیح کی طرف سے اس کے سپرد کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۶۵) نظارت صدقات و وظائف ا۔سلسلہ کے فرائض درباره صدقات و وظائف و مالی امداد کے لئے ایک نظارت ہے جس کا نام نظارت صدقات ووظائف ہوتا ہے۔اور اس کا انچارج ناظر صدقات ووظائف کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۶) ۲- نظارت صدقات و وظائف کا یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت کے مستحقین کے لئے حسب گنجائش و حسب قواعد منظور شده مناسب وظائف کا انتظام کرے نیز یتامی و بیوگان کی امداد کا انتظام کرنا بھی اس نظارت کے ذمہ ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۷) ۳ مستحقین کی وقتی اور اتفاقی امداد بھی اسی نظارت کے سپر د ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۸) - وظائف قرضہ حسنہ کی واپسی میں نظارت بیت المال ( خرچ) سے مناسب تعاون کرنا بھی اس نظارت کے سپر د ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۹) ۵- نظارت صدقات و وظائف کے ذمدان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوگی جوخلیفہ المسیح کی طرف سے اس کے سپرد کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۷۰) نوٹ: یہ شعبہ فی الحال نظارت بیت المال خرچ کے ساتھ منسلک ہے۔ابھی تک یہ نظارت الگ قائم نہیں کی گئی۔