جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 220
220 نظارت بیت المال (آمد ) ا۔سلسلہ احمدیہ کے فرائض در باره تشخیص چندہ جات وتحصیل اموال و دیگر متعلقہ امور کے ادا کرنے کے لئے ایک نظارت بیت المال آمد ہے جس کا انچارج ناظر بیت المال (آمد ) کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۵۲) ۲۔ہر قسم کے چندوں اور دیگر آمد نیوں کی تشخیص اور تحریک اور تحصیل کا انتظام کرنا اس نظارت کے سپرد ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر۱۵۳)۔اس نظارت کا فرض ہوتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کی کل مالی ضروریات کے پورا کرنے کی تدابیر اختیار کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۵۴) ۴۔زکوۃ وصدقات کی تحریک و وصولی کا انتظام بھی اس نظارت کے سپر دہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۵۵) ۵۔تمام صاحب نصاب احمدی افراد کے ذاتی کھانہ زکوۃ دفتر نظارت بیت المال (آمد ) میں مکمل رکھے جاتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۵۶) - صدرانجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ آمد پورا کرنے کی ذمہ داری اس نظارت پر ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۵۷) ے۔ضروری ہوتا ہے کہ جملہ جماعتی چندہ جات صدر انجمن احمدیہ کی مطبوعہ رسید بک پر وصول کئے جائیں اور کسی شخص سے رسید دئیے بغیر کوئی چندہ نہ وصول کیا جائے اور چندہ دینے والے کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ صدرانجمن احمدیہ کی مطبوعہ رسید حاصل کر کے ہی چند ادا کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۵۸) ۸ - نظارت بیت المال ( آمد) کے ذمہ ان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفہ امسیح کی طرف سے اس کے سپرد کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۵۹) جماعتی چندہ جات کی پڑتال کے لئے نظارت بیت المال کے تحت انسپکٹر ز کام کرتے ہیں۔نظارت بیت المال (خرچ) ا۔سلسلہ کے فرائض دربارہ سالانہ بجٹ آمد و خرچ صدر انجمن احمد یہ کی تیاری اور اس کی منظوری کا حصول اور اس کے مطابق اخراجات کی نگرانی نیز قرضہ جات کی ادائیگی اور واپسی کیلئے ایک نظارت ہے جس کا نام نظارت بیت المال ( خرچ) ہے اور اس کا انچارج ناظر بیت المال ( خرچ ) کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۶۰) ۲۔قواعد وضوابط اور گنجائش کے مطابق قرض جات کی منظوری حاصل کرنا اور ان کی واپسی کیلئے ضروری