جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 201 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 201

201 انجمن احمدیہ کا قیام بہشتی مقبرہ کی آمد کی حفاظت۔اسے فروغ دینے اور خرچ کرنے کے لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک انجمن بنائی جس کا نام انجمن کار پردازان مصالح بہشتی مقبره تجویز فرمایا۔یہ انجمن کوئی دنیوی یا جمہوری طرز کی انجمن نہیں تھی۔بلکہ ان اموال کی حفاظت اور توسیع اور اشاعت دین حق کی غرض سے بنائی گئی تھی۔جو نظام الوصیت کے نتیجہ میں جماعت کو عطا ہونے والے تھے۔جماعت کے بعض احباب کے مشوروں کے نتیجہ میں بہشتی مقبرہ والی انجمن کو قانونی وسعت دے کر دوسرے جماعتی اداروں کو بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔اور ۱۹۰۶ء میں اس کا نام ”صدر انجمن احمد یہ رکھا گیا۔جس کا دائرہ کار جماعتی وسعت اور ترقی کے ساتھ ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا۔چنانچہ اندرون ملک کی جماعتی ، انتظامی، تربیتی اور تعلیمی و اصلاحی اغراض کو پورا کرنے کا فریضہ خلیفہ وقت کی ہدایات کے ماتحت موجودہ صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کے سپرد ہو گیا۔اس انجمن کے دفاتر کی شاندار عمارت کا سنگ بنیاد جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ۳۱ مئی ۱۹۵۰ء کو اپنے دست مبارک سے رکھا۔اور ۱۹ نومبر ۱۹۵۷ء کو اس عمارت کا افتتاح فرمایا۔صدر انجمن احمدیہ کے کئی شعبہ جات اور کمیٹیاں ہیں۔بعض شعبہ جات کے لئے نظارت کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ان تمام شعبہ جات، کمیٹیوں اور نظارتوں کا تعارف قواعد وضوابط صدر انجمن احمد یہ مطبوعہ نومبر ۲۰۰۱ء کی روشنی میں تحریر کیا جاتا ہے۔کمیٹی محاسبه و مال ا۔صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ایک کمیٹی ہے۔جس کا نام کمیٹی محاسبہ ومال ہے۔( قاعدہ نمبر ۵۷)۔اس کمیٹی کا کام مالی و حسابی معاملات میں صدر انجمن کومشورہ دینا ہوتا ہے اور کوئی ایسا معاملہ جو مالی یا حسابی ہو اور جس کا بجٹ پر اثر پڑتا ہو اس کمیٹی کی رائے کے بغیر صدر انجمن احمد یہ میں پیش نہیں ہو سکتا۔اس کمیٹی کے کام کی تفصیل یہ ہے۔( قاعدہ نمبر ۵۸) الف:۔سالانہ بجٹ آمد و خرچ کے متعلق مشورہ دینا۔