جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 193
193 کا خلیفہ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ اس کا سچا جانشین ہوگا ورنہ وہ مسیح موعود کا قائم مقام ہوکر ایسی پیش گوئی کو پورا کرنے والا کیونکر ہو سکتا ہے۔حضرت صاحب کی دوسری شہادت خلافت کے متعلق آپ کا یہ الہام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس الہام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کے بعد جمہوریت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ آپ کی جماعت میں بادشاہ ہوں گے اور یہی زبر دست اور طاقتور ہوں گے کیونکہ اگر آپ کے بعد پارلیمنٹوں کی حکومت تھی اور بادشاہت آپ کے اصول کے خلاف تھی تو الہام بدیں الفاظ ہونا چاہئے تھا۔پارلیمنٹیں تیرے دین پر چلیں گی“ بادشاہوں کے نام سے معلوم ہوتا ہے۔یہ امر بھی خلافت سے وابستہ ہے۔جمہوریت سے بھی خلافت ثابت ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انجمن کا ہی فتویٰ درست اور صحیح ہے پھر بھی خلافت ثابت ہے کیونکہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد کل احمدی جماعت کا پہلا اجماع خلافت کے مسئلہ پر ہی ہوا تھا اور کیا غریب اور کیا امیر کیا صدرانجمن احمدیہ کے مبر اور کیا عام احمدی سب نے بالا تفاق بغیر تر دو انکار کے بلکہ اصرار اور الحاح سے حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ تسلیم کیا اور عاجزانہ طور سے آپ سے خلیفہ ہونے کی درخواست کی جس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے اور یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ جمہوریت کے فیصلہ کے مطابق بھی خلافت ثابت ہے کیونکہ جمہور نے خود خلافت کا اقرار کیا پس اگر جمہوریت بھی ثابت ہو جائے تب بھی انجمن نے بغیر کسی ممبر کے انکار کے خلافت کو قبول کر لیا ہے اور اس طرح بھی جمہوریت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔نظام خلافت پر اجماع سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر شاہد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد سب سے پہلا اجماع ، قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت ہی پر ہوا اور رسالہ الوصیت کے مطابق ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مولانا نورالدین بھیروی رضی اللہ عنہ خلیفہ اول منتخب ہوئے۔اس موقعہ پر حضرت مولانا نور الدین کی خدمت میں ایک درخواست پیش کی گئی جس پر جناب مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر سیدمحمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور دوسرے بہت سے عمائد انجمن کے دستخط