جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 191 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 191

191 فاقتلوا الآخر منهما (مسلم) جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو جو بعد میں ہوا سے قتل کر دو۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم نے ایک ہی خلیفہ تجویز کیا ہے اور جمہوریت کو قطعا پسند نہیں کیا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ حدیث میں حضرت عباس کی نسبت یہ دعا آئی ہے کہ واجـعـل الـخـلافـة بـاقـيـة فـي عقبہ۔اس کی اولاد میں خلافت کا سلسلہ جاری رکھ۔خلفاء اربعہ کی خلافت کے آسمانی اور خدائی ہونے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ رسول کریم نے حضرت عثمان کو فرمایا۔انـه لعل الله يقمصک قمیصا فان ارادوک علی خلعه فلا تخلعه لهم (ترمذی) یعنی خدا تعالیٰ تجھے کرتہ پہنائے گا۔اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے۔مگر تم اسے ہرگز نہ اتارنا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا سلسلہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا۔کیونکہ رسول کریم نے یہ فرمایا ہے کہ خدا تجھے کر نہ پہنائے گا۔نہ یہ کہ لوگ پہنائیں گے۔خلافت کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے۔اگر جمہوریت اسلام میں ہوتی۔تو آنحضرت یہ فرماتے کہ لوگ تجھے کرتا پہنانا چاہیں گے لیکن تم انکار کر دیجیو۔اور کہہ دیجیو کہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔اور تعلیم اسلام کے خلاف۔اس لئے میں خلیفہ نہیں بنتا۔مگر آپ نے فرمایا کہ خدا پہنائے گا اور لوگ اتارنا چاہیں گے۔مگر تم جمہوریت کا ذرا خیال نہ کر لو۔اور یہ کر نہ نہ اتار یو۔پس صاف معلوم ہوا کہ خلافت ہی اسلام کے احکام کے ماتحت ہے نہ جمہوریت۔اس جگہ یہ بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہئے کہ باوجود یکہ حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ ایک مجلس شوریٰ کے ذریعہ قرار پایا تھا مگر پھر بھی آنحضرت سے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں کہ قمیص خلافت کا پہنانے والا خدا تعالیٰ ہوگا نہ کہ مجلس شوری۔اسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک عورت رسول کریم کے پاس آئی اور آپ سے کچھ سوال کیا۔آپ نے اسے فرمایا کہ پھر آنا۔اس نے کہا کہ اگر میں آؤں اور آپ نہ ہوں یعنی آپ فوت ہو چکے ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر سے کہیو۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علم میں آپ کے بعد خلافت شخصی تھی (جس کو آپ نے بھی حکم قرار دیا۔اور اپنا قائم مقام نہ صرف تسلیم فرمایا بلکہ خود بتا دیا) نہ جمہوریت۔ورنہ یوں فرماتے کہ میرے بعد انجمن کے پاس آئیو۔جو میرے قائم مقام ہو۔نیز احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم جب کبھی کسی سفر یا غزوہ پر جاتے تھے تو مدینہ میں کسی ایک شخص کو اپنا خلیفہ بن جاتے تھے۔خلافت کے مسئلہ پر صحابہ کا تعامل اور اجماع قرآن وحدیث کے بعد اجماع صحابہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَالسَّابِقُونَ