جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 190
190 کہا ہے اور آیت استخلاف میں بھی خلفاء کے منکرین کو فاسق کہا ہے جیسا کہ فرمایافَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ خلفاء کے کا فر فاسق ہوں گے۔یہ مسئلہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ حضرت آدم کو بھی خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا۔اور اس وقت جمہوریت کو قائم نہیں کیا تھا اور ان کے وجود پر ملائکہ نے اعتراض بھی کیا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اِنِّی أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُونَ پھر ملائکہ نے تو اپنے اعتراض سے رجوع کر لیا۔لیکن ابلیس نے رجوع نہ کیا اور ہمیشہ کے لئے ملعون ہوا۔پس خلافت کا انکار کوئی چھوٹا سا انکار نہیں۔شیطان جو اول الکافرین ہے وہ بھی خلیفہ کے انکار سے ہی کافر بنا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ملائکہ میں سے بنتا ہے اور کون ابلیس کا بھائی بنتا ہے۔مندرجہ بالا حوالجات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن شریف سے شخصی خلافت ثابت ہے نہ کہ جمہوری اور قدیم سے اللہ تعالیٰ کی سنت یہی چلی آئی ہے کہ وہ نبی کے بعد ایک شخص کو خلیفہ بناتا ہے اور اس کے بعد دوسرے کو نہ یہ کہ چند آدمیوں کو ایک ہی وقت میں خلیفہ بنا دیتا ہے۔شخصی خلافت کا ثبوت حدیث سے احادیث سے ثابت ہے کہ خلیفہ کا وجود ضروری ہے اور آنحضرت نے بھی جمہوریت کو نہیں قائم کیا بلکہ خلافت کو قائم کیا ہے اور یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کو وصیت کی کہ میرے بعد اختلافات پھیلیں گے مگر تم میرے خلفاء کی سنت پر عامل ہونا اور انہیں کے طریق پر چلنا۔اوصیکم بتقوى الله والسمع والطاعة وان كان عبدا حبشيـا فـانـه مـن يعش منكم بعدى فيرى اختلافا كثيرًا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهدين من بعدى تمسكوا بها و عضوا عليها بالنواجذ اياكم ومحدثات الامور (ترمذی کتاب العلم باب الاخذ والسنة) میں تمہیں تقوی اللہ کی ہدایت کرتا ہوں اور اطاعت وفرمانبرداری کی۔خواہ تم پر حبشی غلام ہی سردار کیوں نہ ہو۔کیونکہ میرے بعد جو زندہ رہیں گے اور جلدی ہی دیکھیں گے کہ بہت اختلاف ہو جائے گا۔پس تم میری اور میرے خلفاء کی جوراشد اور مہدی ہوں گےسنت کو مضبوط پکڑنا اور دانتوں میں زور سے دبائے رکھنا۔یعنی چھوڑ نا نہیں اور نئی نئی باتیں جو نکلیں ان سے بچنا۔اس حدیث میں رسول کریم نے اپنی امت کو خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس حدیث سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم کے قائم مقام ایک ایک آدمی ہوں گے بلکہ یہ بھی کہ ان کے اعمال ایک سنت نیک ہوں گے جن پر چلنا مومن کا فرض ہے اور ان کے خلاف چلنا ضلالت ہے۔ایک اور حدیث بھی ہے جس میں رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔اگر دو خلیفے ہوں تو ایک کو قتل کر دینا چاہئے۔اذا بويع لخلیفتین