جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 189 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 189

189 صلى الله الله ایک ہی شخص ہوتا اور مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ بھی ایک ہی شخص ہوتا نہ کہ انجمنیں۔کیونکہ لفظ گمانے اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیا ہے اور آیت هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ الله وَ يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينَ۔وَاخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهُمُ (سورہ جمعہ (4-3) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح نبی کریم ہے کے بعد خلافت ہوئی۔اسی طرح مسیح موعود کے بعد ہوگی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں کی تربیت رسول کریم وقت کریں گے۔ایک ابتداء اسلام میں۔ایک آخری زمانہ میں۔پس مسیح موعود کے کام کو ان کے کام سے مشابہت دے کر اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ آخری زمانہ بھی اول زمانہ کے مشابہ ہو گا۔پس ضرور ہے کہ آج بھی اسی طرح خلافت ہو جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تھی۔اسی طرح قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله (آل عمران رکوع ۱۷) یعنی تو معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لے لیا کر۔لیکن جب تو عزم اور ارادہ مصم کر لے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اپنے عزم و منشا کے مطابق کام کر۔اس آیت میں بھی خلافت کا مسئلہ صاف کر دیا گیا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ آیت میری امت پر ایک رحمت ہے اور جو اس پر عمل کر کے مشورہ سے کام کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔اور جو بلا مشورہ کام کرے گا وہ ہلاک ہوگا اور اس طرح آنحضرت ﷺ نے بتا دیا ہے کہ یہ آیت آپ کے ساتھ مخصوص نہیں۔بلکہ آپ کے بعد بھی اس پر عملدرآمد جاری رہے گا۔پس شاور کے لفظ سے جس میں ایک آدمی کو مخاطب کیا گیا ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد صرف ایک شخص خلیفہ ہوگا اور وہ لوگوں سے مشورہ لینے کے بعد جو بات خدا اس کے دل میں ڈالے اس پر عمل ہوگا اور لوگوں کے مشورہ پر چلنے کا پابند نہیں ہوگا۔کیونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ یہ آیت اصل میں آپ کے بعد کے حکام کیلئے ہے۔پس خلافت قرآن کریم سے ثابت ہے اور آیت استخلاف اور آیت مشاورۃ اس مسئلہ کا فیصلہ کر دیتی ہیں۔اسی طرح جب بنی اسرائیل نے اپنے ایک نبی سے اپنے اوپر ایک حاکم مقرر کرنے کی درخواست کی تو ان کے لئے کوئی انجمن نہ مقرر کی گئی بلکہ ان کے نبی نے یہ کہا کہ اِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا خدا نے تجھ پر طالوت کو بادشاہ بنایا ہے۔جس پر اس وقت بھی چند لوگوں نے کہا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ اگر جمہوریت خدا تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہوتی تو ایک انجمن مقرر کی جاتی نہ بادشاہ۔اگر کہو کہ اس وقت زمانہ اور تھا اور اب اور ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرما چکا ہے کہ امت محمدیہ کی خلافت امت بنی اسرائیل کی خلافت کے مطابق ہوگی۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔خلافت طالوت کے متعلق یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالوت کا حکم قطعی قرار دیا گیا ہے اور جولوگ طالوت کے احکام کو مانتے تھے۔انہیں کو مومن