جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 163
163 حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کا عہد خلافت انتخاب خلافت ثالثه انتخاب خلافت کے لیے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ے اپنی زندگی میں ہی مجلس مشاورت میں جماعت کے نمائندوں کے مشورہ سے ایک مجلس انتخاب خلافت قائم فرما دی تھی اور اس کے قواعد بنا دیے تھے۔چنانچہ حضور کی وفات پر مورخہ ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو ساڑھے سات بجے شب بعد نماز عشاء مسجد مبارک ربوہ میں اس مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس زیر صدارت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ منعقد ہوا۔پہلے سب ممبروں نے قاعدے کے مطابق خلافت سے وابستگی کا حلف اٹھایا۔اس کے بعد حضرت خلیفہ ثانی کے بڑے صاحبزادے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفتہ اسیح الثالث منتخب کیا اور پھر سب ممبروں نے اسی وقت آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔اس کے بعد آپ نے مختصر خطاب فرمایا اور پھر اس وقت جتنے احباب باہر موجود تھے انداز پانچ ہزار) ان سب نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح جماعت احمد یہ پھر ایک ہاتھ پر جمع ہوگئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مختصر حالات زندگی حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب مورخہ ۱۶ نومبر ۱۹۰۹ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔بچپن سے آپ حضرت اماں جان کی خاص تربیت میں رہے۔۷ ارا اپریل ۱۹۲۲ء کو جبکہ آپ کی عمر صرف تیرہ برس کی تھی۔آپ نے قرآن مجید مکمل طور پر حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب سے عربی اور اردو کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔اس کے بعد آپ دینی علم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔جولائی ۱۹۲۹ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے امتحان مولوی فاضل پاس کیا۔اس کے بعد آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے ۱۹۳۴ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اگست ۱۹۳۴ء کو حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بنت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیگم حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ آپ کی شادی ہوئی۔ستمبر ۱۹۳۴ء کو آپ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی ہدایت کے مطابق انگلستان تشریف لے گئے۔اس موقع پر حضور نے آپ کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا:۔میں تم کو انگلستان۔۔۔اس لئے بھیجو رہا ہوں کہ مغرب کے نقطہ نظر کو سمجھو تمہارا کام یہ ہے کہ تم (دین