جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 154 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 154

154 آخری بیماری اور وفات ۱۹۵۵ء میں سفر یورپ سے آنے کے بعد گو حضور کو ایک حد تک آرام محسوس ہوتا تھا اور حضور نے نمازیں پڑھانی، خطبات دینے اور خلافت کے دیگر ضروری کام بھی سرانجام دینے شروع کر دیئے تھے مگر اصل بیماری ابھی موجود تھی۔اسی حالت میں حضور نے تفسیر صغیر جیسا اہم کام شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے حضور پھر زیادہ بیمار ہو گئے۔۱۹۵۸ء میں بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا۔ہر ممکن علاج ہوتا رہا۔ملک کے قابل ترین ڈاکٹروں کے علاوہ بیرونی ملکوں کے ڈاکٹروں کو بھی دکھایا گیا اور ان سے مشورے کئے جاتے رہے مگر بیماری بڑھتی ہی چلی گئی اور حضور کمزور ہوتے گئے۔حتی کہ آخر وہ وقت بھی آگیا جس کا تصور بھی کوئی احمدی نہیں کرنا چاہتا تھا یعنی مورخہے اور ۸/ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی رات کو ۲ بجکر ۲۰ منٹ پر قریب ے ے سال کی عمر میں حضور ہمیں داغ جدائی دے کر اپنے مولائے کریم کے پاس جاپہنچے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضور کی وفات پر احمدیوں کی جو حالت ہوئی اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا لیکن سچا مومن ہر حالت میں خدا کی رضا پر راضی رہتا ہے۔جب خدا کی یہ سنت ہے کہ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے۔آخر وہ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔تو حضور نے بھی آخر اس دنیا سے رخصت ہونا ہی تھا سو آخر وہ وقت آ گیا اور حضور ہم سے رخصت ہو گئے اگلے دن مورخہ ۹ نومبر کو ساڑھے ۴ بجے سہ پہر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں پاکستان کے ہر حصہ سے آئے ہوئے قریباً ۵۰ ہزار احمدی شامل ہوئے جو کہ اپنے پیارے آقا کی وفات کی خبر سنتے ہی دیوانہ وار اپنے مرکز میں پہنچ گئے تھے۔نماز جنازہ سے پہلے سب احباب نے اپنے پیارے امام کا آخری دیدار کیا۔نماز جنازہ کے بعد آپ کو مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت اماں جان کے مزار کے پہلو میں امانتا دفن کر دیا گیا۔تصانیف حضرت خلیفہ اسیح الثانی پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کے بارہ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“۔حضرت مصلح موعودؓ کے بارہ میں پیشگوئی کے یہ حصے بھی اپنی کمال شان سے پورے ہوئے۔آپ کی غیر معمولی ذہانت ، فراست اور ظاہری و باطنی علوم کی وسعت کا غیر بھی اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ جب حضور نے ۱۹۲۴ء میں یورپ کا سفر اختیار کیا تو اس سفر کے دوران دمشق کے قیام کے موقع پر اخبار العمران