جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 153
153 ہم کس طرح آپ کی بات سننے کے لئے تیار ہوں؟ لوگ چاروں طرف سے ٹوٹے پڑتے تھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا خدا کے فرشتے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بیعت کے لئے تیار کر رہے ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کچھ تامل کیا مگر آخر لوگوں کے اصرار پر حضور نے بیعت لینی شروع کر دی۔جو لوگ قریب نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا کر اور ایک دوسرے کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔بیعت کے بعد لمبی دعا ہوئی جس میں سب پر رقت طاری تھی۔دعا کے بعد حضور نے درد سے بھری ہوئی تقریرفرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا کہ گو میں بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر خدا تعالیٰ نے مجھ پر جو ذمہ داری ڈال دی ہے مجھے یقین ہے کہ خدا اس کے ادا کرنے کی توفیق مجھے عطا فرمائے گا۔آپ سب لوگ متحد ہو کر اسلام اور احمدیت کی ترقی کی کوشش میں میری مدد کریں۔اس تقریر سے سب لوگوں کے دلوں میں ایک خاص اطمینان پیدا ہو گیا۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جب دیکھا کہ جماعت نے ان کی بات نہیں مانی تو وہ حسرت کے ساتھ اس مجمع میں سے اٹھ کر چلے گئے اور پھر چند دن کے بعد مستقل قادیان چھوڑ کر لاہور چلے گئے اور وہاں پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کی الگ انجمن قائم کر لی۔شروع شروع میں انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ بہت تھوڑے لوگ خلافت کے ساتھ ہیں۔مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی ناکامی کو محسوس کر لیا اور اقرار بھی کر لیا کہ جماعت احمدیہ کی بہت بھاری اکثریت خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو چکی ہے اور ہم انہیں ورغلانے میں ناکام رہے ہیں۔الحمد للہ علی ذالک! اولاد حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ:۔تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا“۔اس الہام کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی نسل کو واقعی بہت بڑھایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ذریعہ تو یہ الہام خاص طور پر پورا ہوا کیونکہ للہ تعالیٰ نے آپ کو ۱۳ بیٹے اور ۹ بیٹیاں عطا فرمائیں اور پھر یہ اولاد دین کی خاص خدمت کرنے والی ثابت ہوئی۔آپ کے دو صاحبزادے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب جماعت کے تیسرے اور چوتھے خلیفہ ہوئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔