جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 133
133 ۲ مشرقی پاکستان کا امیر۔۳۔کراچی کا امیر ۴۔تمام اضلاع کے امراء ۵۔تمام سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔گو انتخاب خلافت کے وقت امیر نہ ہوں۔(ان کے اسماء کا اعلان صدرانجمن احمد یہ کرے گی )۔۶۔امیر جماعت احمدیہ قادیان ۷ ممبران صدر انجمن احمد یہ قادیان ۸ تمام زنده صحابه کرام کو بھی انتخاب خلافت میں رائے دینے کا حق ہوگا۔(اس غرض کے لئے صحابی وہ ہوگا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہو اور حضور کی باتیں سنی ہوں اور ۱۹۰۸ء میں حضور علیہ السلام کی وفات کے وقت اس کی عمر کم از کم بارہ سال کی ہو۔صدرانجمن احمد یہ تحقیقات کے بعد صحابہ کرام کے لئے سرٹیفیکیٹ جاری کرے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی ) ۹۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابیوں میں ہر ایک کا بڑالڑ کا انتخاب میں رائے دینے کا حقدار ہوگا بشرطیکہ وہ مبائعین میں شامل ہو۔(اس جگہ صحابہ اولین سے مراد وہ احمدی ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی کتب میں فرمایا ہے (ان کے ناموں کا اعلان بھی صدرانجمن احمد یہ کرے گی ) ۱۰۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمدیہ جنہوں نے کم از کم ایک سال بیرونی ممالک میں تبلیغ کا کام کیا ہو اور بعد میں تحریک جدید نے کسی الزام کے ماتحت انہیں فارغ نہ کر دیا ہو۔( ان کو تحریک جدید سرٹیفیکیٹ دے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی ) 11۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمد یہ جنہوں نے پاکستان کے کسی صوبہ یا ضلع میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم از کم ایک سال کام کیا ہواور بعد میں ان کو صدرانجمن احمدیہ نے کسی الزام کے ماتحت فارغ نہ کر دیا ہو۔(انہیں صدرا انجمن احمد یہ سرٹیفیکیٹ دے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی ) مجلس انتخاب خلافت کا دستور العمل یدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مندرجہ بالا جملہ اراکین مجلس انتخاب خلافت کے کام کے لئے حسب ذیل دستور العمل منظور فرمایا ہے:۔الف مجلس انتخاب خلافت کے جو اراکین مقرر کئے گئے ہیں۔ان میں سے بوقت انتخاب حاضر افراد انتخاب کرنے کے مجاز ہوں گے۔غیر حاضر افراد کی غیر حاضری اثر انداز نہ ہوگی اور انتخاب جائز ہوگا۔ب انتخاب خلافت کے وقت اور مقام کا اعلان کرنا مجلس شوری کے سیکرٹری اور ناظر اعلیٰ کے ذمہ ہوگا۔ان کا فرض ہوگا کہ موقع پیش آنے پر فوراً مقامی اراکین مجلس انتخاب کو اطلاع دیں۔بیرونی جماعتوں کو تاروں کے ذریعہ اطلاع دی جائے۔اخبار الفضل میں بھی اعلان کر دیا جائے۔