جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 130 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 130

130 کریں پہلے صدر جلسہ سب کے رو برو بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر خدا کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاملہ میں رائے دے گا اور کسی قسم کی نفسانیت کو اس میں دخل نہ دے گا۔پھر وہ ہر ایک نامز دشدہ سے اس قسم کی قسم لے اور سب لوگ صدر جلسہ سمیت اس بات پر حلف اٹھا ئیں کہ وہ اس معاملہ کے پر بعد یہ سب لوگ فردا فردا اس بات کا مشورہ دیں کہ جماعت میں سے کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے تا کہ وہ جماعت کے لئے خلیفہ اور امیر المومنین ہو صدر جلسہ اس بات کی کوشش کرے کہ سب ممبروں کی رائے ایک ہو۔اگر یہ صورت نہ ہو سکے تو سب لوگ جن کے نام اس کا غذ پر لکھے جاویں گے رات کو نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ خدایا تو ہم پر حق کھول دے۔دوسرے دن پھر جمع ہوں اور پھر حلف اٹھا ئیں اور پھر اسی طرح رائے دیں۔اگر آج کے دن بھی وہ لوگ اتفاق نہ کر سکیں تو ۳/۵ را ئیں جس شخص کے حق میں متفق ہوں۔اس کی خلافت کا اعلان کیا جاوے لیکن اعلان سے پہلے یہ ضروری ہوگا کہ حاضر الوقت احباب سے نواب صاحب یا ان کی جگہ جوصدر ہو اس مضمون کی بیعت لیں کہ وہ سب کے سب ان لوگوں کے فیصلہ کو بصدق دل منظور کریں گے اور اس بیعت میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جائیں گے اس کے بعد اس شخص کی خلافت کا صدر اعلان کرے جس پر ان ممبروں کا حسب قواعد مذکورہ بالا اتفاق ہو۔بشرطیکہ وہ شخص ان ممبروں میں سے جو صدر جلسہ ہو اس کے ہاتھ پر اس امر کی بیعت کرے ( جو بیعت کہ میری ہی سمجھی جائے گی اور اس شخص کا ہاتھ میرا ہاتھ ہو گا) کہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی بتائی ہوئی تعلیم اسلام پر میں یقین رکھوں گا اور عمل کروں گا اور دانستہ اس سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوں گا۔بلکہ پوری کوشش اس کے قیام کی کروں گا روحانی امور سب سے زیادہ میرے مدنظر ر ہیں گے اور میں خود بھی اپنی ساری توجہ اسی طرف پھیروں گا اور باقی سب کی توجہ بھی اسی طرف پھیرا کروں گا اور سلسلہ کے متعلق تمام کاموں میں نفسانیت کا دخل نہیں ہونے دوں گا اور جماعت کے متعلق جو پہلے دو خلفاء کی سنت ہے اس کو ہمیشہ مدنظر رکھوں گا اس کے بعد وہ سب لوگوں سے بیعت لے اور میں ساتھ ہی اس شخص کو وصیت کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کے پرانے دوستوں سے نیک سلوک کرے۔نئیوں سے شفقت کرے امہات المومنین خدا کے حضور میں خاص رتبہ رکھتی ہیں۔پس حضرت ام المومنین کے احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں احترام کرے۔میری اپنی بیبیوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وصیت ہے کہ وہ قرضہ حسنہ کے طور پر ان کے خرچ کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولا د انشاء اللہ تعالیٰ ادا کرے گی۔بصورت عدم ادائیگی میری جائیداد اس کی کفیل ہوان کو خرچ مناسب دیا جائے عورتوں کو اس وقت تک خرچ دیا جائے جب تک وہ اپنی شادی کر لیں بچوں کو اس وقت تک جبکہ وہ اپنے کام کے قابل ہو جائیں۔اور بچوں کو دنیوی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں