جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 129 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 129

129 کر دیا تھا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی کا انتخاب صحابہ کی ایک بھاری اکثریت کے اتفاق سے عمل میں آیا۔پس خلفاء راشدین کے انتخاب میں کوئی ایک طریق انتخاب نظر نہیں آتا۔اس لئے انتخاب خلافت کے لئے حسب حالات کوئی مناسب طریق اپنا یا جا سکتا ہے اور حسب ضرورت پہلے کے مقررہ قواعد وضوابط میں تبدیلی اور کمی و بیشی ممکن ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بعد قائم ہونے والی خلافت راشدہ میں بھی انتخاب خلافت کے قواعد وضوابط میں حسب حالات تبدیلیاں ہوتی رہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کا انتخاب تو تمام جماعت کی متفقہ رائے اور مشورہ سے عمل میں آیا۔جبکہ خلافت ثانیہ کے انتخاب کے وقت بعض افراد نے نظام خلافت کے تعلق میں اختلاف کیا۔مگر جماعت کی بھاری اکثریت نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لی۔نظام خلافت کے حوالے سے بعض غیر مبائعین کے اختلاف اور بالخصوص حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی ذات کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کے پیش نظر اپنی علالت کے دوران حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۱۸ء میں اپنے بعد انتخاب خلافت کے لئے درج ذیل ہدایات ارشاد فرمائیں۔حضرت امیر المومنین پر آخر ۱۹۱۸ء انفلوئنزا کا اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضور نے ۱۹ را کتوبر ۱۹۱۸ء کو وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزدفرما دی۔اس اہم وصیت کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسول الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رو بروان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخر میں ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کاتب ہے جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اگر میں اس کا غذ کی تحریر کو اپنی حین حیات میں منسوخ نہ کروں تو میری وفات کی صورت میں وہ لوگ جن کے نام اس جگہ تحریر کرتا ہوں ایک جگہ پر جمع ہوں جن کے صدر اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے وہ شامل نہ ہوسکیں ( گواگر حد امکان میں ہوتو میرا حکم ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں ) تو پھر یہ جمع ہونے والے لوگ آپس کے مشورے سے کسی شخص کو صدر مقرر