جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 127 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 127

127 قدرت ثانیہ کا ظہور وفات حضرت مسیح موعود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات سے قبل آپ کو متعدد ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کے وقت کے قریب ہونے کے اشارے پائے جاتے تھے۔چنانچہ انہیں الہامات کے پیش نظر آپ نے ۱۹۰۵ء میں رساله الوصیت تحریرفرما کر جماعت کو بعض نصائح فرما ئیں۔نیز اپنے بعد قدرت ثانیہ کے ظہور کی نوید سنائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل حضرت اماں جان کے علاج کے سلسلہ میں مورخہ ۲۹ را پریل کو لا ہور تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے جناب خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی کے مکان پر قیام فرمایا۔وہاں قیام کے دوران حضور ”پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے کہ مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ:۔الرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ وَالْمَوْتُ قَرِيبٌ۔یعنی کوچ کا وقت آ گیا ہے۔ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔( بدر جلد ۷ ص ۲۲) یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا۔بالآخر مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو بروز منگل صبح ساڑھے دس بجے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(بحوالہ سلسلہ احمدیہ ص ۱۸۴- از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے۔شائع کردہ شعبہ تالیف و تصنیف قادیان) تجهیز و تکفین و تدفین حضور کی وفات کے معابعد تجہیز وتکفین کی تیاری کی گئی اور جب غسل وغیرہ سے فراغت ہوئی تو تین بجے بعد دو پہر حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے لاہور کی جماعت کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں نماز جنازہ ادا کی۔اور پھر شام کی گاڑی سے حضرت مسیح موعود کا جنازہ بٹالہ پہنچایا گیا۔جہاں سے راتوں رات روانہ ہو کر مخلص دوستوں نے اپنے کندھوں پر اسے صبح کی نماز کے قریب بارہ میل کا پیدل سفر کر کے قادیان پہنچایا۔قادیان پہنچ کر آپ کے جنازہ کو اس باغ میں رکھا گیا جو بہشتی مقبرہ کے ساتھ ہے اور لوگوں کو اپنے محبوب آقا کی آخری زیارت کا موقع دیا گیا اور حضرت حافظ حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی