جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 125
125 کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا ہوں اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے“۔پھر تھوڑا آگے چل کر فرمایا کہ:۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۶،۳۰۵) خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں، کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا ہوں سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص۳۰۶) اور دعاؤں پر زور دینے سے۔اس وصیت کے ساتھ جماعت کو یہ خوشخبری بھی سنائی:۔تم خدا کے ہاتھ کا بیج ہو جو دنیا میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک درخت ہو جائے گا۔(رساله الوصیت۔روخانی خزائن جلد ۲ ص ۳۰۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس وصیت کے مطابق دنیا میں جو تو حید کا قیام ہونا تھا اور جماعت احمدیہ نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی جو منازل طے کرنی تھیں وہ ان مقدس وجودوں کے ذریعہ ظہور پذیر ہونا تھی جو خلافت علی منہاج نبوت پر فائز ہونے تھے۔پس قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا وصیت کے مطابق ضرور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت احمدیہ میں قدرت ثانیہ کے رنگ میں نظام خلافت جاری ہوتا۔جو خدا کے فضل سے مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء سے جاری ہے جس کی برکت سے جماعت احمدیہ آج دنیا کے ۱۹۸ ممالک میں نفوذ کر چکی ہے اور رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ منشاء النبی کے مطابق اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔خلافت راشدہ اور خلافت احمدیہ میں مماثلت حضرت شاہ اسمعیل شہید اپنی کتاب ” منصب امامت میں خلافت راشدہ کی تعریف اور وجہ تسمیہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔