جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 124
124 یعنی آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں پھر خلافت راشدہ کا دور آئے گا۔شارحین حدیث نے بالا تفاق لکھا ہے کہ خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ سے متعلق ہے۔یعنی خلافت راشدہ کا یہ دور اس زمانہ میں شروع ہوگا۔چنانچہ حضرت سید محمد اسمعیل شہید نے اپنی مشہور کتاب ” منصب امامت میں خلافت علی منہاج نبوت کے سلسلہ میں تحریر فرمایا ہے:۔امامت تامہ کو خلافت راشدہ ، خلافت علی منہاج نبوت اور خلافت رحمت بھی کہتے ہیں۔واضح ہو کہ جب امامت کا چراغ شیشہ خلافت میں جلوہ گر ہوا تو نعمت ربانی بنی نوع انسان کی پرورش کے لئے کمال تک پہنچی اور کمال روحانیت امی رحمت ربانی کے کمال کے ساتھ نور علی نور آفتاب کی مانند چم کا“۔منصب امامت ص ۷۹۔ایڈیشن دوم ۱۹۶۹ء) آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا پیشگوئی کے مطابق خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے وو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں فرمایا:۔چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو کہ تمام دنیا کے وجودوں سے اشراف و اولی ہیں، ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔شہادت القرآن روحانی خزائن جلد ۶ ص۳۵۳) جب ۱۹۰۵ء کے آخر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّر یعنی تیری وفات کا وقت قریب آ گیا ہے کا الہام ہوا۔تو آپ نے ساری جماعت کو بطور وصیت فرمایا :۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر د یوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔میں خدا