جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 123
123 خلافت احمدیہ کے قیام کا پس منظر احادیث صحیحہ سے مسئلہ خلافت کے متعلق یہ واضح حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ امت محمدیہ کے آخری دور میں بھی اسی طرح کی کامل خلافت راشدہ کا قیام مقدر تھا جس طرح کی اسلام کے دور اول میں قائم ہوئی تھی۔امت محمدیہ کے آخری حصہ کو بھی آنحضرت ﷺ نے نہایت بابرکت قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرَ لَا يُدْرَى الخِرُهُ خَيْرٌ أَمْ أَوَّلُهُ۔مظاہر جدید شرح مشکوۃ شریف جلد ۵ ص ۹۱۳ ، باب امت محمدیہ کا بیان دارالاشاعت اردو بازار کراچی) یعنی میری امت کی مثال اس بارش کی ہے جس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا آخری حصہ زیادہ مفید اور باعث خیر ہے یا پہلا حصہ زیادہ مفید اور باعث خیر ہے۔پھر اسی حدیث کے آخر میں فرمایا ہے کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ہوگا۔اس آخری دور اسلام کے بارے میں مزید خوشخبری دی کہ:۔إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمُ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ۔مظاہر جدید شرح مشکوۃ شریف جلد ۵ ص ۹۱۶ ، باب امت محمدیہ کا بیان دارالاشاعت اردو بازار کراچی) اس امت کے آخری حصہ میں ایسی جماعت ہوگی جن کو صحابہ کی طرح اجر ملے گا۔وہ امر بالمعروف کرنے والی ہوگی اور نہی عن المنکر کرے گی۔اس جماعت کے لوگ تمام اہل فتن کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ جماعت مسیح موعود ہی کی جماعت ہے اور اس کیلئے دوسری احادیث میں خلافت علی منہاج النبوت کی دائی نعمت کے پانے کی بھی خوشخبری دی گئی ہے۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمان والی معروف حدیث مبارکہ میں امت محمدیہ کو مطلع کر دیا تھا کہ میرے وصال کے فوراً بعد ایک دور خلافت راشدہ کا ہوگا اور متعدد خلفاء ہوں گے جو میرے مشن کی تکمیل کے لئے بر پاکئے جائیں گے۔آپ نے حکم دیا کہ سب مسلمان ان خلفاء کی اطاعت کریں۔ان کے احکام کو مانیں اور ان کی تحریکات پر لبیک کہیں۔پھر درمیانی صدیوں کی خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد نبی اکرم علیہ نے خلافت علی منہاج النبوۃ والی معروف حدیث میں نہایت واضح رنگ میں فرمایا تھا:۔ثُمَّ تَكُونُ الخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۳)