جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 110 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 110

110۔کو بھی مل گئی۔چنانچہ آپ نے قادیان میں مقیم تمام احد یوں کو مسجد مبارک میں اکٹھا کر کے اس سلسلہ میں بڑی ولولہ انگیز اور جذباتی تقریر فرمائی۔جس میں خلیفہ اسیح کے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالی اور مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو دوبارہ بیعت کرنے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ اس وقت ان لوگوں نے معذرت کرتے ہوئے تجدید بیعت کی اور وقتی طور پر خاموشی اختیار کر لی۔لیکن چونکہ ذہنی طور پر وہ نظام خلافت کے حق میں نہ تھے بلکہ جمہوریت پسند تھے اس لئے حضرت خلیفہ اسی الاول کی آخری بیماری کے دوران یہ لوگ دوبارہ Active ہو گئے۔اور اندر ہی اندر اپنے ہم خیالوں سے رابطے اور مشورے کرنے شروع کر دیئے۔جب حضرت خلیفہ اسی الاول کی وفات ہو گئی تو اس وقت یہ لوگ کھل کر سامنے آ گئے اور انتخاب خلافت کی کھل کر مخالفت کی۔ان لوگوں کو کافی سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر سب کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔بالآ خر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا بطور خلیفہ اسیح الثانی انتخاب عمل میں آیا گیا اور جماعت کی غالب اکثریت نے آپ کی بیعت کر لی جبکہ ان لوگوں نے آپ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور قادیان کو چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے اور وہاں مولوی محمد علی صاحب کو اپنا امیر مقرر کر کے ایک الگ جماعت کی بنیا درکھ دی اور لاہور کو اپنا مرکز قرار دیا۔اسی وجہ سے یہ لوگ لاہوری احمدی کہلانے لگے۔لا ہوری جماعت کے قائم ہونے کی اصل وجہ تو اوپر بیان ہو چکی ہے اب ذیل میں ان کے دیگر خیالات اور نظریات کا بھی تعارف کروایا جاتا ہے۔لاہوری احمدی اور جماعت احمدیہ کے عقائد میں اختلافات ا۔پہلا اختلاف : لا ہوری جماعت ( غیر مبائعین ، پیغامی ) کا پہلا عقیدہ جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین صدر انجمن احمد یہ ہے نہ کہ شخصی خلافت۔اس سلسلہ میں اس کتاب کے اگلے باب نمبر جماعت احمدیہ کا نظام خلافت کے تحت زیر عنوان ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین شخصی خلافت یا انجمن میں مفصل بحث کر دی گئی ہے جس میں قرآن و حدیث اور دیگر عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین شخصی خلافت ہے یا صدرانجمن کی باڈی ہے۔اس بحث کا مطالعہ کرنے سے اصل حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔لہذا اس موقع پر اس سلسلہ میں مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ حضرت مسیح موعود کے رسالہ الوصیت سے کچھ عبارت پیش کی جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کی جانشین شخصی خلافت کو ہونا تھا نہ کہ صدر انجمن