جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 109
109 جماعت احمدیہ اور لاہوری احمدیوں میں فرق حضرت خلیفہ امسیح الاول کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ نے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ المسح الثانی تسلیم کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی لیکن جماعت کے کچھ افراد ( جن میں سے مکرم مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔مکرم خواجہ کمال الدین صاحب ایل۔ایل۔بی اور مولوی صدرالدین صاحب وغیرہ زیادہ نمایاں تھے ) نے حضرت صاحبزداہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ اسیح الثانی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اور قادیان کو چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے۔وہ لوگ جنہوں نے حضرت مصلح موعود اور کے ہاتھ پر بیعت نہ کی (جس کی وجہ سے وہ غیر مبائعین کہلائے ) انہوں نے مکرم مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو اپنا امیر بنالیا اور اپنا مرکز لاہور میں قائم کر لیا۔غیر مبائعین کے لاہور میں اپنا مرکز قائم کرنے کی وجہ سے ہی وہ لاہوری احمدی یالا ہوری جماعت کے طور پر معروف ہوئے۔نیز ان غیر مبائعین لاہوریوں نے لاہور سے اپنا ایک رسالہ پیغام مصلح جاری رکھا ہوا تھا جس میں اپنے خیالات اور عقائد کا اظہار کرنا شروع کر دیا اس وجہ سے لا ہوری احمد یوں کو پیغامی بھی کہا جانے لگا۔یہ تو تھی لاہوری احمدی جماعت (غیر مبائعین، پیغامی جماعت ) کا قیام اور وجہ تسمیہ۔اب ذیل میں وہ وجہ بیان کی جاتی ہے جس کی بناء پر ان لوگوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا جو کچھ اس طرح پر ہے۔در اصل مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے کچھ دیگر ساتھی اور ہم خیال و ہمنوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد نظام خلافت کے قائم ہونے کے خلاف تھے۔ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ان کی جانشین شخصی خلافت ہونے کی بجائے صدر انجمن احمد یہ ہی جانشینی کا کر دار ادا کرے گی۔دراصل یہ لوگ جدید تعلیم یافتہ تھے اور مغربی دنیا کے اثرات ان کے ذہنوں اور مزاجوں پر چھائے ہوئے تھے اور مغربی طرز حکومت اور جمہوریت سے یہ لوگ کافی متاثر ہوئے ہوئے تھے۔اور شخصی خلافت کے حق میں نہیں تھے۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت نے متفقہ طور پر حضرت حافظ حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی کوخلیفہ اسیح چن لیا تھا۔اور خلیفہ اسیح کے طور پر آپ کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لی تھی۔حضرت خلیفتہ مسیح الاول کا مقام ومرتبہ کچھ ایسا تھا کہ یہ لوگ بھی آپ کو خلیفتہ المسیح تسلیم کرتے ہوئے آپ کی بیعت کرنے پر مجبور ہو گئے۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی بیعت کر لی۔لیکن کچھ عرصہ بعد اندر ہی اندر اپنے خیالات اور سوچ کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔جن کی اطلاع حضرت خلیفہ امسیح الاول