جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 71
71 دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۱۵) تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے۔بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرتمند نہیں۔اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گڑوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دور ہے۔ہر ایک نا پاک دل اس سے بے خبر ہے۔وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا۔وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا۔تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر بھی رحم ہو۔تم سچ سچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جاوے۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۱۲-۱۳) میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خدا وند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبر کیا چیز ہے پس مجھ سے سمجھ لو کہ میں خدا کی روح سے بولتا ہوں۔ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہنر مند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سر چشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اور اپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے۔کیا خدا قادر نہیں کہ اس کو دیوانہ کر دے اور اس کے بھائی کو جس کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے اس سے بہتر عقل اور علم اور ہنر دیدے۔ایسا ہی وہ شخص جو اپنے کسی مال یا جاہ وحشمت کا تصور کر کے اپنے بھائی کو حقیر سمجھتا ہے وہ بھی متکبر ہے کیونکہ وہ اس بات کو بھول گیا ہے کہ یہ جاہ وحشمت خدا نے ہی اس کو دی تھی اور وہ اندھا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ خدا قادر ہے کہ اس پر ایک ایسی گردش نازل کرے کہ وہ ایک دم میں اسفل السافلین میں جا پڑے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ حقیر سمجھتا ہے اس سے بہتر مال و دولت عطا کر دے۔ایسا ہی وہ شخص جو اپنی صحت بدنی پر غرور کرتا ہے یا اپنے حسن اور جمال اور قوت اور طاقت پر نازاں ہے اور اپنے بھائی کا ٹھٹھے اور استہزاء سے حقارت آمیز نام رکھتا ہے