جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 31
31 حضرت اماں جان حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حضرت اماں جان ۱۸۶۵ء میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر پیدا ہوئیں۔آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد صاحب کی پانچ ہزار کی جائیداد بغیر کسی قسم کی تکلیف کے مل گئی جس کی آمدنی پندرہ روپے ماہوار تھی۔آپ کے والد صاحب نے آپ کا نام نصرت جہاں بیگم صاحبہ رکھا۔آپ کی پیدائش کے بعد پانچ بچے پیدا ہوئے لیکن فوت ہو گئے۔پھر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ۱۸۸۱ء میں پیدا ہوئے ، ان کے بعد پھر پانچ بچے پیدا ہو کر فوت ہوئے۔پھر ۱۸۹۰ ء میں حضرت میر محمد الحق صاحب پیدا ہوئے۔پانچ سال کی عمر میں آپ کی تعلیم گھر میں قرآن اور اردو سے ہوئی اور خود حضرت میر صاحب نے آپ کو تعلیم دی اور آپ کی تربیت خالصتہ پاکیزہ ماحول میں ہوئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ کبھی تو حضرت میر صاحب نے ایک نسخہ منگوالیا۔پھر دعا کے لئے بھی خط لکھتے رہے ایک دفعہ لکھا ” دعا کریں خدا مجھے ایک نیک اور صالح داماد عطا کرے“ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو الہام بھی ہوا لہذا حضور نے اپنی طرف سے تحریک کر دی اور یہ تحریک کچھ تر ڈد کے بعد منظور ہو گئی اس طرح ۱۸۸۴ء میں آپ حضرت اقدس کے عقد میں آگئیں۔یہ شادی اللہ تعالیٰ کی خاص منشاء اور حضور ﷺ کی پیشگوئی یتزوج و یو لدله یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کی اولا د ہوگی، کے مطابق ہوئی اور آپ ہی کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو عظیم الشان اولا د عطا فرمائی۔آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے وعدوں کے مطابق فرزند اس بی بی سے عطا کئے ہیں۔جو شعائر اللہ میں سے ہیں اس واسطے اس کی خاطر داری ضروری ہے آپ کے بچوں کی تربیت کرنے کے اصول یہ تھے کہ ا۔بچے پر ہمیشہ اعتبار کرنا ۲۔جھوٹ سے نفرت پیدا کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کو جتنے لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا۔مثلاً حضرت اماں جان کے دونوں بھائی ، آپ کی اولاد، بہوئیں اور خادمائیں وغیرہ سب کا یہ کہنا ہے کہ یہ دونوں عام میاں بیوی کی طرح نہ تھے۔آپ دونوں میں کبھی آپس میں جھگڑا نہ ہوتا۔کسی بات پر لڑائی نہ ہوتی۔اُدھر حضور حضرت اماں جان کی ہر بات مانتے پیار اور احسان کا سلوک کرتے تو ادھر حضرت اماں جان بھی حضور کی چھوٹی سے