جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 589 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 589

589 آپ کو امیر ضلع گورداسپور و امیر ضلع سرگودها، امیر صوبہ پنجاب ہمبر صدر انجمن احمد یہ، فنانس کمیٹی کے ممبر ، صدر قضاء بورڈ ،صدر وقف جدید، صدر تدوین فقہ کمیٹی ، مجلس افتاء کے ممبر اور صدر کے عہدوں پر گرانقدار اور بھر پورخدمات کا موقع ملا۔آپ نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے حکم کے مطابق وکالت شروع کی۔چند سال بعد آپ نے زندگی وقف کرنے کی درخواست کی لیکن حضور نے خط لکھا کہ آپ کی زندگی وقف ہے آپ فکر نہ کریں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا عبد الحق صاحب نے اپنی تمام عمر اعلی درجہ کے وقف زندگی کے طور پر خدمت سلسلہ میں گزاری اور آپ کو ۱۰۶ سال کی عمر میں بھی اس خدمت کی توفیق ملتی رہی۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے مورخہ ۲۶ / اگست ۲۰۰۶ء کو بھمبر ۱۰۶ سال وفات پائی۔اس طرح آپ کی جماعتی خدمات کا عرصہ ۸۴ سال بنتا ہے۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔ایں سعادت بزور بازو تانه بخشد خدائے نیست بخشنده مکرم مولانا عمری عبیدی صاحب آپ کے والد کا نام عبیدی تھا۔وہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی کہا کرتے تھے کہ مجھے ایک ایسا بیٹا دیا جائے گا جو خاندان کا شیر ہوگا۔عمری عبیدی صاحب کی پیدائش ۱۹۲۴ء میں ہوئی۔آپ ابھی سکول میں ہی تھے کہ آپ کو مشرقی افریقہ میں جماعت کے مبلغ مکرم شیخ مبارک احمد صاحب سے تعارف ہوا۔اور آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں آپ نے ۱۹۳۷ء میں احمدیت قبول کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔کچھ عرصہ حکومت کی ملازمت کرنے کے بعد آپ نے زندگی وقف کر دی اور پھر سواحیلی ترجمہ قرآن کی نظر ثانی میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔۱۹۵۳ء میں آپ دینی تعلیم کے حصول کے لئے ربوہ تشریف لے آئے۔ربوہ میں آپ کو گزارے کے لئے بہت قلیل الاؤنس ملتا تھا۔اس رقم میں آپ کتب خریدنے کا شوق پورا نہیں کر سکتے تھے۔انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ ایک وقت کا کھانا ترک کر دیا اور کچھ عرصہ میں رقم جمع کر کے کتب خرید لیں۔تقریباً دو سال کے بعد آپ کی وطن واپسی ہوئی۔اور آپ نے ٹانگانیکا میں مبلغ کے طور پر کام شروع کیا۔۱۹۶۰ء میں بعض مخصوص حالات کی وجہ سے جماعت نے انہیں ملکی سطح پر خدمات شروع کرنے کی اجازت دی۔اور وہ دار السلام کے پہلے افریقن میئر منتخب ہوئے۔۱۹۶۲ء میں آپ کو ٹا نگانیکا کے مغربی صوبے کار یجنل