جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 577 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 577

577 روس کے قبضہ میں تھا وہاں گئے۔اس لئے روس اور بخارا کے پہلے مبلغ بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ میں حضرت مولانا ظہور حسین صاحب بخارا کو ہی قرار دیا گیا ہے۔مگر ۱۹۹۰ء میں جب بعض مقبوضہ ممالک روس کے قبضہ سے آزاد ہوئے تو دوبارہ روس اور آزاد ہونے والی سٹیٹس میں جن مبلغین کو وہاں بھجوایا گیا ان سٹیٹس میں سب سے پہلے جانے والے مبلغین کو ہی وہاں کا پہلا مبلغ شمار کیا گیا ہے۔بینن میں سب سے پہلے احمدیت کا پیغام مکرم مولانا محمد بشیر شاد صاحب کے ذریعہ پہنچا جو اس وقت نائیجیریا میں مقیم تھے اسی طرح نائیجر میں پہلی بیعت مکرم مولانا محمد اجمل شاہد صاحب کے ذریعہ ہوئی جو اس وقت نائجیریا کے مشنری انچارج تھے اور گاہ بگاہ نائیجر جایا کرتے تھے۔پس اس صورت حال میں مذکورہ ممالک میں سب سے پہلے جن مبلغین کے ذریعہ احمدیت کا نفوذ ہوا خواہ وہ مبلغین وہاں عارضی طور پر یعنی تبلیغی دورہ پر گئے تھے تو ان ممالک کے وہی پہلے مبلغ شمار کئے گئے ہیں۔پس مذکورہ بالا اصول کے تحت ہی مختلف ممالک میں پہلے مبلغین کی فہرست تیار کی گئی ہے۔تاکہ قارئین اس اصول کو مد نظر رکھ کر اس فہرست کا مطالعہ کریں۔اور کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہو۔بیرونی ممالک کے پہلے مبلغین کی فہرست نمبر شمار نام ملک 1 ۴ ۶ ۹ 1۔نام مبلغ انگلستان حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ایم۔اے ماریشس حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے امریکہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب سیرالیون حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب گھانا حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب نائیجیریا حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب مصر جرمنی ایران حضرت محمود احمد عرفانی صاحب حضرت مولا نا مبارک علی بنگالی صاحب بی۔اے حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب فرانس مکرم ملک عطاء الرحمن صاحب مکرم مولوی عطاء اللہ صاحب سال ١٩١٣ء ۱۹۱۵ء ١٩١٩ء ۱۹۲۱ء ١٩٢١ء ١٩٢١ء ١٩٢٢ء ١٩٢٢ء ١٩٢٤ء ١٩٤٦ء ١٩٤٦ء