جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 498
498 کے لئے مقدر تھیں اور جن کا ظہور خدائے قادر و توانا کا بابرکت ہاتھ قریب مستقبل میں کرنے والا ہے اور یہ وہی چراغ ہے جو مسیح موعود نے اپنے محمود کے ہاتھ میں دیکھا۔پس مومنو! اس فضل کی تائید کر کے فضل سے حصہ لو اور یاد رکھو کہ چراغ کے لئے تیل کی ضرورت ہے۔لاریب خدا تعالیٰ اس چراغ کے لئے خود سامان کرے گا۔لیکن خوش قسمت ہے وہ جو خدا کے جلائے ہوئے چراغ کی روشنی کو بحال بلکہ ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہے اور ہرممکن ذریعہ سے اس کی خبر گیری میں کوشاں ہوتا ہے۔معاونین الفضل ! لوگوں نے چاہا کہ اس چراغ کو اپنے منہ کی پھونکوں سے گل کر دیں اور کسی نے اس کا نام الفصل کسی نے القبر رکھا کسی نے ایڈیٹر کوقتل کی دھمکی دی مگر خدا تعالیٰ نے والله متم نوره۔۔۔کے ماتحت ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ان کی تمام کوششوں کو بے سود بے نتیجہ رکھا۔ان کی تمام رسیوں کو عصائے موسیٰ کے ذریعہ پرزے پرزے کر دیا اور اس چراغ کی روشنی کو ترقی دی۔اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے اور اس فضل کا ہاں خاص فضل کا اظہار کیا جس کا فضل عمر کے زمانہ میں آنا لکھا تھا اور الفضل کی تحریروں اور مضامین کو خاص روشنی بخش کر تاریک دلوں کو اس کے ذریعہ سے منور کیا۔مکرم بھائیو! یہ ہے الفضل کی پوزیشن۔یہ ہے اس کا درجہ اور یہ ہیں اس کی خدمات جو آج تک اس نے کی ہیں۔۔پس آپ کا فرض ہے کہ فضل سے حصہ لینے کے لئے الفضل کی توسیع اشاعت کو ہر وقت (الفضل ۲۹ دسمبر ۱۹۱۴ء) مدنظر رکھیں۔احباب جماعت اور الفضل سے استفادہ مکرم محمد ہارون شہزاد صاحب مربی سلسلہ تحریر فرماتے ہیں۔خاکسار آجکل فیض آباد۔میر پور خاص میں خدمت دین کی توفیق پارہا ہے۔استفادہ الفضل کے متعلق عرض خدمت ہے کہ الفضل کا میں روز مطالعہ کرتا ہوں جب کلاس لینے کے لئے حلقہ میں جاتا ہوں تو وہ الفضل وہاں پر رکھ دیتا ہوں اور جو الفضل ان کے پاس موجود ہوتی ہے وہ ان سے لے کر ایک اور جگہ حلقہ میں جوال دیتا ہوں اور جو الفضل ان کے پاس پہلے دن کی ہوتی ہے وہ ان سے لے کر ایک اور گھر میں بھجواتا ہوں۔اس طرح الفضل سے میرے علاوہ اور بھی کئی دوست فائدہ اٹھاتے ہیں۔