جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 248
248 خلیفتہ امسح الثانی 1918ء میں ہی ایک جامع اور مکمل خاکے کا اعلان کر دیا تھا۔( بحوالہ اخبار الحکم 7 جنوری 1919ء صفحہ 7,5) تا ہم صیغہ قضاء کا با قاعدہ طور پر قیام یکم جنوری 1919ء کو ہی قرار دیا گیا ہے۔صیغہ قضاء کے قیام کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی قضاء کیلئے مکرم قاضی امیر حسین صاحب مکرم مولوی فضل دین صاحب اور مکرم میر محمد اسحق صاحب کو مقر رفرما دیا۔شروع میں قضاء کا طریق کار یہ تھا کہ قاضی اول کے فیصلہ کے خلاف مرافعہ اولیٰ میں دو قاضی صاحبان اپیل کی سماعت کرتے تھے جن کا تقرر انچارج محکمہ قضاء کرتا تھا۔مرافعہ اولیٰ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی سماعت خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی کیا کرتے تھے۔مورخہ 20 /اکتوبر 1939ء کو حضور نے اپیلوں کی سماعت کیلئے ایک بورڈ قائم فرمایا اور بورڈ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی اجازت نہ تھی مگر حضور نے مورخہ 13 جون 1942ء کو ایک ارشاد میں بورڈ کے فیصلہ کے خلاف بورڈ کی اجازت سے حضور کے پاس اپیل کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضور نے درج ذیل ارشاد فر مایا کہ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اپلیں سننے کیلئے جو بورڈ مقرر کیا گیا ہے ان کے فیصلے میں شرعی احکام کی بناء پر نظر ثانی کرنے اور ان کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جہاں ایسی صورت موجود ہو تو فریق مقدمہ بورڈ کے پاس میرے پاس اپیل کرنے کے لئے درخواست کرے اگر بورڈ اجازت دے تو ایسی اپیل میرے پاس با قاعدہ ہو سکے گی۔لیکن اگر بورڈ اجازت نہ دے تو اس حکم کا بطور استصواب میرے پاس اپیل ہو سکے گی مگر اس میں فریقین کے حاضر ہونے کی اجازت نہ ہو گی صرف ایک دفتری استصواب ہو گا۔پھر اگر اجازت ہوتو اپیل با قاعدہ ہو سکے گی۔“ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی بیماری تک یہی طریق جاری رہا۔بیماری کے ایام میں حضور نے مورخہ 66 28 نومبر 1955ء کو درج ذیل ارشاد فرمایا۔”میری طاقت نہیں کہ مقدمات کو سنوں۔وہی فیصلہ آخری ہوگا جو بورڈ قضاء کا ہوگا۔میں تفسیر کا کام کر رہا ہوں۔وقت بھی نہیں اور صحت بھی ابھی نہیں۔جس کو اعتراض ہو وہ عدالتوں میں جاسکتا ہے۔“ (رجسٹر نمبر 3 صفحہ 1) مورخہ 25 /اکتوبر 1956ء کو دوبارہ مکرم ناظم صاحب دارالقضاء کی چٹھی پر مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے اطلاع بھجوائی کہ ابھی حضور کی صحت اس قابل نہیں ہوئی کہ مقدمات کو سن سکیں اس لئے حسب سابق بورڈ کا ہی فیصلہ آخری ہوگا۔لیکن حضور نے اس امر کو پسند کیا کہ حضور کی جگہ آئندہ بورڈ کا فل بنچ ایسے