جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 194
ثبت تھے۔اس درخواست میں یہ لکھا تھا کہ:۔194 اما بعد مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں اعلم اور اتنی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہے اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوہ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر خوش بودے اگر چه هر یک ز امت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے، کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔( بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء) علاوہ از میں جناب خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدرانجمن احمدیہ نے انجمن کے جملہ ممبران کی طرف سے تمام بیرونی احمدیوں کی اطلاع کے لئے حسب ذیل بیان جاری کیا۔حضور علیہ السلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشوره معتمدین صدر انجمن احمد یه موجوده قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود علیہ السلام به اجازت حضرت ام المومنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سوتھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین الشریفین جناب حکیم نورالدین سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے احباب موجود تھے۔مولنا حضرت سید محمد احسن صاحب صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خاں صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب اور خاکسار خواجہ کمال الدین“۔جناب خواجہ صاحب نے اس اطلاعی بیان میں یہ بھی تحریر فرمایا: - کل حاضرین نے جن کی تعداد او پر دی گئی ہے بالا تفاق خلیفہ اسی قبول کیا یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفتہ المسیح والمہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر بیعت کریں“۔( بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء)