جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 192 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 192

192 الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔اور مہاجرین و انصار سے سابق اور اول صحابہ اور جو پوری طرح ان کی اتباع کریں۔اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ کی اتباع ہی پر خدا راضی ہو سکتا ہے اور صحابہ کا اجماع دوم اس بات پر ہوا ہے کہ رسول کریم کا اس سے پہلا اجماع قائم مقام کوئی خلیفہ ہونا چاہئے اور سب صحابہ نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر حضرت عمرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔پھر حضرت عثمان کے ہاتھ پر۔پھر حضرت علیؓ کے ہاتھ پر کل صحابہ کا ایک کے بعد دوسرے کے ہاتھ پر بغیر اختلاف کے بیعت کرتے جانا ثابت کرتا ہے کہ سب اس بات پر متفق تھے اور کسی جماعت صحابہ کا انکار مسئلہ خلافت پر ثابت نہیں۔بلکہ سب مقر تھے۔پس صحابہ کے اجماع کے خلاف فتوی دینے والا خدا تعالیٰ کی رضا کیونکر حاصل کر سکتا ہے۔صحابه وكلهم اجمعون خلافت کے مسئلہ پر ایمان لائیں اور اپنی ساری عمر اس پر عامل رہیں اور خدا ان کی اتباع کو اپنی رضا کا موجب قرار دے۔اور آج چند اشخاص اٹھ کر کہیں کہ شخصی خلافت مراد نہیں اسلام میں جمہوریت ہے۔حضرت مسیح موعود کی شہادت خلافت کے متعلق حضرت اقدس نے حمامۃ البشری میں یہ حدیث درج فرمائی ہے۔ثم يسافر المسيح الموعود او خليفة من خلفائه الى ارض دمشق اس حدیث کو نقل کر کے حضرت صاحب نے خلافت کے مسئلہ پر دو گواہیاں ثبت کر دی ہیں ایک تو نبی کریم کی گواہی کہ مسیح موعود کے بھی خلیفے ہوں گے اور دوسری اپنی گواہی کیونکہ آپ نے اس حدیث کو قبول کیا ہے پس آپ نے اپنے بعد جو کچھ ہونے والا تھا۔اس کا اظہار اس حدیث کے درج کر دینے سے اپنی وفات سے قریباً پندرہ سال پہلے کر دیا تھا کہ میرے بعد خلیفے ہوں گے۔اگر خلیفوں کا ہونا خلاف اسلام ہوتا یا آپ کے بعد خلفاء کا وجود حضرت صاحب کے یا اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہوتا تو آپ کبھی یہ نہ فرماتے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ شام کو جائے گا اگر کوئی کہے کہ گو آپ نے خلیفہ کا شام جانا قبول فرمایا ہے مگر یہ تو نہیں فرمایا کہ وہ خلیفہ میری مرضی کے مطابق ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس کی نسبت خلفائہ لکھا ہے یعنی مسیح موعود کے خلیفوں میں سے ایک خلیفہ۔پس اگر وہ غاصب یا ظالم ہوگا جو جمہوریت کا حق دبا کر خلیفہ بن جائے گا تو اس کا نام آپ اپنا خلیفہ نہ رکھتے بلکہ فرماتے کہ اس کی امت میں سے ایک جابر بادشاہ۔دوسرے یہ کہ آپ نے اس خلیفہ کو ایک ایسی پیشگوئی کا پورا کرنے والا بتایا ہے جو خود آپ کی نسبت ہے اور فرمایا کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا مسیح موعود اس پیشگوئی کو پورا کرے گا یا اس