جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 162 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 162

162 خلافت ثالثه قدرت ثانیہ کے دوسرے مظہر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب انتہائی کامیاب زندگی گزار کرے اور ۸/ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی رات کو وفات پاگئے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند اکبر حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب (ایم۔اے آکسن ، ۱۹۰۹ء تا ۱۹۸۲ء) ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو بطور خلیفہ اسیح الثالث منصب خلافت پر فائز ہوئے۔آپ کا وجود بھی خدائی بشارتوں کا حامل تھا۔پہلی بشارت :۔حضور کو القاء کیا گیا کہ ۱۹۶۵ء سے قربانیوں کے ایک عہد جدید کا آغاز ہونے والا ہے اس امر کا ثبوت کہ اس نئے عہد سے مراد خلافت ثالثہ ہے واضح طور پر یہ ہے کہ حضور کو ۱۹۴۴ء میں بذریعہ رویا یہ دکھایا گیا کہ آپ کی مزید عمرا کیس ” تک ہوگی (الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۴۴ء ) اس کے علاوہ حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء میں نئی پیدائش سے بیعت مراد لی۔چنانچہ فرمایا :۔بیعت کا وقت تو نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔یہ تو نئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے“۔(ص۱۸) وو دوسری بشارت :۔حضرت مصلح موعودؓ کو جناب الہی کی طرف سے یہ الہامی بشارت دی گئی کہ آپ کے وصال پر ” جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی ( تفسیر کبیر العلق ص۱۸۹)۔بالفاظ دیگر پوری جماعت بالا تفاق خلافت ثالثہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی جیسا کہ یہ روح پرور نظارہ پوری دنیا نے دیکھا۔تیسری بشارت :۔حضور نے ۲۶ ستمبر ۱۹۰۹ء کو ایک خط میں رقم فرمایا کہ:۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا“۔(الفضل ۱/۸اپریل ۱۹۱۵ء) خداتعالی کی قادر نہ تجلیات ملاحظہ ہوں کہ پاکستانی پر یس نے حضرت خلیفتہ امسح الثالث کے الثالث کے خلیفہ منتخب ہونے کی خبر دیتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ” ناصر الدین ہی لکھا۔(نوائے وقت ۱۰ نومبر ۱۹۶۵ء ص ا ، امروزه انومبر ۱۹۶۵ء ص ۶)