جماعت اسلامی پر تبصرہ

by Other Authors

Page 2 of 48

جماعت اسلامی پر تبصرہ — Page 2

اور مزدور مسلمان اور کافر کا کوئی امتیاز نہیں برتا گیا۔اس لئے محض قلم کی روانی تحریر کے تیکھا پن، الفاظ کی مرصع کاری، بندشوں کی چیتی محاوروں کا طلسم اور اندازِ بیان کی شگفتگی میں گم ہو کے رہ جانا ہمیشہ حقائق سے محرومی کا باعث ہوتا ہے۔ہمیں ادبی لحاظ سے " تحریات اسلامی کا مطالعہ ذہنی تفریح کے لئے تو مغیرہ ہے۔حق و صداقت " کی تلاش میں سود مند نہیں۔ملکہ میں کہتا ہوں کہ اگر اس تحریک کے نقیب و داعی بستہ آفرینی میں غالب سلامت میں چالی، طنزیات میں اکبر مرثیہ گوئی میں انہیں دوبیر غزل گوئی میں میر تھی اور افسانہ نویسی میں منٹو ہوتے تو کیا ہم ان کے نظریات اور دعا دمی پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ؟ مگر یہاں تو ایسا بھی نہیں ہے۔اور تو اور اس جماعت کے قابل احترام بانی اگر چہ اپنے مخصوص انداز تحریر کے باعث مانا پھر میں ایک ممتاز شخصیت نہیں دتی کے ایک مشہور علمی خاندان میں پیدا ہوتے، اپنی ماحول میں پروان چڑھے۔اور اسی دشت کی سیاحی میں آج عمر کی ہمہ دیں بہار دیکھ رہے ہیں مگر اس دور کے بعض اجلہ عصر کا دجنہیں حضرت امیر مینائی سے براہ راست شرف تلمذ حاصل ہے یہ کہنا ہے کہ آپ کے قلم نے کئی ایک مقامات پر ایسی ایسی نفرتیں کھائی ہیں کہ حیرت آتی ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا ہے ادبی حیثیت سے جماعت اسلامی اور اس کی تحریک پر روشنی ڈالنے کا یہ موقعہ نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے۔سیاسی نقطہ نظر کو جہاں تک سیاسی پہلو کا تعلق ہے۔مولانا شیخ روشن دین تنویر اور جماعت کے