جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف اور امتیازی عقائد — Page 36
جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف دشمنوں نے بارہا چاہا کہ دیں اُس کو اکھیڑ دست قدرت ہر دفعہ اُس کی دفعہ اُس کی پناہ بنتا رہا کس قدر شیریں ثمر اُس کو سدا لگتے رہے جب شہیدانِ وفا کا خوں بنا اُس کی غذا ہو گیا کتنا تناور دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی عظمت پر ہے شاہد ایک عالم برملا یہ شجر سایہ فگن ہے آج سب آفاق پر اس کی چھاؤں میں سکوں پاتے ہیں جو یانِ خدا یہ شجر ہے احمدیت ، مامن بر جن و انس جو بھی آیا اس کے نیچے پا گیا راز بقا جل رہا ہے ایک عالم دھوپ میں بے سائباں شکر مولی کہ ہمیں سایہ رحمت ملا عطاء المجيب راشد ☆ 36